مصالحہ جات ‘ تیل ‘ گھی اور کالی و لال مرچ کا کاروبار عروج پر ۔ سرکاری روک تھام نہ ہونے سے مشکلات
حیدرآباد۔یکم۔اگسٹ(سیاست نیوز) ملاوٹ والی اشیاء شہریوں کیلئے زہر کے مترادف ہیں اور ان اشیائے خورد و نوش کی فروخت عام ہوتی جا رہی ہے ۔ مصالحہ جات و تیل میں ملاوٹ کئی مہلک بیماریوں کا سبب بن رہی ہیں۔ شہر کے علاوہ ریاست کے کئی اضلاع میں ملاوٹ کے کاروبار عروج پر ہیں اوران کے خلاف بعض مقامات پر کاروائی کی جا رہی ہے لیکن مجموعی اعتبار سے کئی مقامات پر دیگر ریاستوں کے تاجرین ان سرگرمیوں میں ملوث ہیں جو ٹھوک تاجرین کو نشانہ بناکر یہ اشیاء فروخت کررہے ہیں جن کے ذریعہ ملاٹ شدہ مصالحہ جات شہر کے گلی کوچوں میں موجود چھوٹی دکانات تک پہنچ رہی ہیں ۔بتایاجاتا ہے کہ شہر کی بیشتر ہوٹلوں میں مصالحہ جات کے معیار پر توجہ نہیں دی جا رہی جبکہ ٹھیلہ بنڈی پر جو اشیائے خورد و نوش فروخت ہوتی ہیں ان پر تو اس بات کا کوئی خیال رکھا ہی نہیں جاتا بلکہ گلی کوچوں کی چھوٹی دکانات کے بعد ان ملاوٹ شدہ اشیاء کی سب سے بڑی مارکٹ شہر کے ٹھیلہ بنڈی و الے خورد نوش مراکز ہیں جہاں ان کی کھپت ہوتی ہے۔ ملاوٹ شدہ تیل ‘ گھی‘ زیرہ‘ کالی مرچ‘ لال مرچ پاؤڈر وغیرہ فروخت کرنے والے ٹھوک بازاروں کے قریب اپنے گودام بنارہے ہیں جبکہ ان اشیاء کی تیاری گنجان آبادی و الے علاقوں یا نواحی علاقو ں میں کی جا رہی ہے ۔ ذرائع کے مطابق شہر میں اعلی معیاری ناموں کے گھی اور تیل کے نقلی ڈبے بھی کھلے عام فروخت کئے جا رہے ہیں اور ان کی فروخت کو روکنے کا کوئی نظم نہ ہونے اور خود تاجرین دھوکہ دہی کا شکار ہونے کے باعث ان اشیاء کو شہریوں تک پہنچنے سے روکنے میں مشکلات پیدا ہونے لگی ہیں۔ نقلی ملاوٹی اشیاء کی سربراہی کے متعلق کئی ٹھوک تاجر واقف بھی ہیں لیکن ان کا کہناہے کہ ملاوٹی اشیاء کی تجارت والے مافیا سے مقابلہ ان کے بس کی بات نہیں ہے ۔ لال مرچ پاؤڈر‘ کالی مرچ ثابت اور پاؤڈر ‘ ادرک لہسن کے پیسٹ کے علاوہ کئی مصالحہ جات میں ملاوٹ کے بارے میںجانتے ہیں لیکن نقلی برانڈ کی پہچان مشکل ہونے سے ملاوٹ شدہ اشیاء بھی دھوکہ سے ان تک پہنچ رہی ہیں۔