شہر اور مضافاتی علاقوں میں کورونا کے کیسیس میں اچانک اضافہ

   

پہاڑی شریف کی ایک پارٹی میں 14 افراد متاثر، معین آباد میں بھی کورونا سے سنسنی
حیدرآباد ۔27۔ مئی(سیاست نیوز) تلنگانہ میں کورونا کیسیس کی تعداد میں دن بہ دن اضافہ ہورہا ہے ۔ شہر کے علاوہ اضلاع میں بھی کورونا کے نئے کیسیس منظر عام پر آئے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر موجودہ صورتحال پر قابو نہیں پایا گیا تو کمیونٹی ٹرانسمیشن جیسی صورتحال پیدا ہوگی اور مرکز کے پھیلاؤ کو روکنا دشوار ہوجائے گا۔ شہر کے پہاڑی شریف اور مضافاتی علاقہ معین آباد میں کورونا کے تازہ کیسیس میں اطراف و اکناف کے علاقوں میں خوف و دہشت کا ماحول پیدا کردیا ہے۔ پہاڑی شریف میں گوشت کے ایک تاجر کی جانب سے پارٹی کا اہتمام کیا گیا تھا۔ اس پارٹی میں شرکت کرنے والے 22 افراد کورونا وائرس سے متاثر ہوئے جن میں ایک ہی خاندان سے تعلق رکھنے والے 14 افراد شامل ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ گوشت کے کاروباری کو ضیاء گوڑہ میں واقع رشتہ داروں کے ذریعہ کورونا کا مرض لاحق ہوا۔

پارٹی میں گولی پورہ ، بورہ بنڈہ ، سنتوش نگر اور حبشی گوڑہ سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی تھی ۔ کورونا سے متاثرہ 14 افراد میں بورہ بنڈہ کے 3 ، سنتوش نگر کے 2 اور حبشی گوڑہ کے 4 افراد شامل ہیں۔ پارٹی میں شریک دیگر افراد کے ٹسٹ کا نتیجہ آنا باقی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ پولیس اور بلدیہ کے حکام گوشت کے بیوپاری سے خریدی کرنے والے افراد کی نشاندہی کر رہے ہیں۔ متاثرہ افراد کے علاقوں کو کنٹینمنٹ زون میں تبدیل کردیا گیا ہے ۔ گھر گھر سروے کرنے کیلئے کیلئے 40 خصوصی ٹیمیں تشکیل دی گئیں۔ تاحال 125 خاندانوں کی نشاندہی کی گئی ، جن کے ٹسٹ کئے جارہے ہیں۔ گرین زون میں موجودہ علاقہ اچانک ریڈ زون میں تبدیل ہورہے ہیں۔ رنگا ریڈی ضلع کے معین آباد منڈل میں کورونا کا پہلا کیس منظر عام پر آیا ۔ محمد حسین نامی شخص مشیر آباد میں واقع اپنے رشتہ دار کے گھر پہنچا اور رشتہ دار کی طبیعت خراب ہونے پر ہاسپٹل سے علاج کیلئے رجوع کیا ، بعد میں وہ معین آباد واپس ہوگیا۔ بعد میں محمد حسین میں کورونا کی علامتیں پائی گئیں۔ علاج کیلئے اسے ہاسپٹل منتقل کردیا گیا۔

اسی دوران کھمم ضلع میں مائیگرنٹ ورکرس کی واپسی کے بعد کورونا کے کیسیس میں اضافہ ہوچکا ہے۔ جس سے عوام میں خوف دہشت کا ماحول ہے۔ مہاراشٹرا اور دیگر ریاستوں سے واپس ہونے والے مائیگرنٹ ورکرس کے ذریعہ ضلع میں وائرس تیزی سے پھیل رہا ہے ۔ ضلع حکام نے اس صورتحال پر قابو پانے کیلئے لاک ڈاؤن میں سختی کا فیصلہ کیا ہے ۔