شہر حیدرآباد مذہبی ہم آہنگی کی علامت : ریونت ریڈی

   

موسیٰ ندی کے طاس میں مندر کی تعمیر کا سنگ بنیاد، مسجد اور چرچ بھی تعمیر کرنے کا اعلان
یہ منصوبہ ووٹ یا سیاست کیلئے نہیں بلکہ عوامی خدمت اور تاریخی ورثے کے تحفظ کیلئے ہے
حیدرآباد 28 مارچ (سیاست نیوز) چیف منسٹر ریونت ریڈی نے کہا کہ حیدرآباد مذہبی ہم آہنگی کی علامت ہے اور اسی جذبہ کے تحت موسیٰ ندی کے طاس میں مندر کے ساتھ ایک مسجد اور ناگول کے علاقہ میں چرچ بھی تعمیر کیا جائے گا۔ یہ اقدامات سماجی اتحاد کو مضبوط کریں گے اور شہر کی تاریخی اہمیت کو برقرار رکھیں گے۔ چیف منسٹر نے آج مچلیشورا سوامی اور اومکاریشورا سوامی منادر کی تعمیرنو کے سنگ بنیاد کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اسے تاریخی لمحہ قرار دیا اور کہا کہ یہ کام محض ایک ترقیاتی پروگرام نہیں بلکہ خدا کی مرضی سے انجام پارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 700 کروڑ کی لاگت سے 8 ایکڑ اراضی پر مندر تعمیر کیا جارہا ہے اور اس علاقے کی 1400 سالہ تاریخ کو محفوظ کرکے آئندہ نسلوں تک پہنچانا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ ریونت ریڈی نے کہا کہ تہذیبیں ہمیشہ دریاؤں کے کنارے پروان چڑھتی ہیں لیکن موسیٰ ندی آج انسانی غلطیوں کی وجہ سے آلودگی کا شکار ہے۔ حکومت اس ندی کو دوبارہ بحال کرنے سنجیدہ اقدامات کررہی ہے جس میں گوداوری کے پانی کو موڑ کر موسیٰ ندی میں پانی کے مستقل بہاؤ کو یقینی بنانے اقدامات کئے جارہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ موسیٰ ندی کی آلودگی سے ضلع نلگنڈہ کے عوام شدید مشکلات کا سامنا کررہے ہیں اور اس مسئلہ کو حل کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ چیف منسٹر نے چند افراد کی جانب سے موسیٰ ندی کی بحالی میں رکاوٹ پر سخت تنقید کی اور کہا کہ ترقی کو روکنے کیلئے نیشنل گرین ٹریبونل میں مقدمات دائر کرنا عوامی مفاد کے خلاف ہے۔ انہوں نے متعلقہ افراد سے اپیل کی کہ وہ مقدمہ واپس لے لیں۔ بصورت دیگر عوام خود فیصلہ کریں گے۔ انہوں نے واضح کیا کہ حکومت ہر حال میں موسیٰ کی صفائی اور بحالی کے علاوہ علاقے کی ترقی کے منصوبے کو مکمل کرے گی اور اسے ’’دکشینہ کاشی‘‘ میں تبدیل کرنے کا عزم رکھتی ہے۔ یہ منصوبہ ووٹ یا سیاست کیلئے نہیں بلکہ عوامی خدمت اور تاریخی ورثے کے تحفظ کیلئے ہے۔ چیف منسٹر ریونت ریڈی نے کہا کہ عوام ہی ان کیلئے سب کچھ ہیں اورحکومت ان کی خواہشات کے مطابق ہی آگے بڑھے گی۔2