حیدرآباد ۔ 29 جون (سیاست نیوز) حیدرآباد میں ایرانی چائے کافی مشہور ہے جو پورے سال ہر ایک شخص استعمال کرتا ہے۔ شہر حیدرآباد ہی نہیں بلکہ تلنگانہ میں چائے کسی تعریف کی محتاج نہیں ہے۔ چینائی کے تمبرم میں ایک نوجوان کیلئے ایک بوڑھے چائے فروش نے ادرک اور الائچی کی چائے بنائی جو اب بھی اپنا وقار برقرار رکھے ہوئے ہیں۔ ویزاگ کی ایک خاتون بھی اوٹی (OOTY) کے پتوں کے ذائقہ کا بچپن سے شوق رکھتی ہے۔ شہر بھر میں مختلف مقامات پر چائے کے مختلف ذائقے پائے جاتے ہیں۔ چائے نوشی کے دوران دوست اپنے زندگی کی تکلیف کو دور کرنے کیلئے ایک دوسرے کے ساتھ اپنے خیالات پیش کرتے ہیں۔ چائے کے اسٹالز کے قریب پیپر کپ میں چائے لیکر پتھروں پر بیٹھ کر چائے پینا انسان کیلئے ایک عمل بن چکا ہے جہاں وہ اپنی تمام تھکاوٹ کو دور کرتا ہے۔ اپنی پریشانی اپنے کسی عزیز کو بتا کر اپنے غموں کو دور کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ چینائی کا ایک نوجوان جو دو سال قبل حیدرآباد آیا وہ اب بھی چائے کے اس ذائقہ کو تلاش کررہا ہے جو اس نے 2018ء میں اس نے محسوس کیا تھا۔ وہ چائے کا ذائقہ کی تلاش میں ہے مگر اسے وہ ذائقہ یہاں نہیں مل رہا ہے۔ مختلف مقامات پر مختلف ذائقوں کے ساتھ چائے پیش کی جاتی ہے۔ پرانے شہر میں چارمینار کے قریب واقع ایک کیفے اینڈ بیکری کی چائے آج بھی اپنا ذائقہ کو برقرار رکھے ہوئے ہیں اور دوردراز مقامات سے آنے والے بڑے ہی شوق سے یہاں کی چائے کو پیتے ہیں اور مزے حاصل کرتے ہیں۔ ش