شہدائے کربلا کو بھر پور خراج ، مختلف شخصیتوں کی جانب سے نذر و ڈھٹی کی پیشکشی ، عزا داروں کا ماتم
حیدرآباد۔18جولائی (سیاست نیوز) امت مسلمہ کے لئے نواسۂ رسولﷺ نے کربلا میں جام شہادت نوش کرتے ہوئے جو پیام دیا ہے وہ دراصل دنیا سے ظلم کے خاتمہ اور حق پر ڈٹے رہنے کے لئے دیا جانے والا لاثانی پیغام ہے اور اس پیغام پر عمل کرتے ہوئے دنیا بھر میں حق کی سربلندی اورپیام حق پر ڈٹے رہتے ہوئے اپنی جان عزیز کو قربان کردینا ہی حقیقت میں حسینی شعار ہے۔ کربلا میں یزیدیت اور دین کی بنیادوں کو ہلانے کی کوششوں کے خلاف امام عالی مقام حضرت سیدناحسین ابن علی ؓ نے اہل بیت اطہار کے ساتھ جو جدوجہد کی ہے دنیا اس کی کوئی مثال پیش نہ کرسکی ہے اور نہ تا قیامت ایسی کوئی مثال پیش کی جاسکتی ہے ۔ شہر حیدرآباد میں امت مسلمہ نے یوم عاشورہ کے موقع پرسید الشہداء حضرت امام حسین ؓ کے علاوہ دیگر شہداء کربلاسے اپنی الفت وارفتگی کا اظہار کیا گیا۔ 10محرم کو یو م عاشورہ کے موقع پر شہر میں بی بی کا الاوہ دبیر پورہ سے تاریخی بی بی کے علم کا جلوس ہاتھی پر برآمد ہوا اور اس جلوس کے ہمراہ سینکڑوں ماتمی انجمنوں اور ہزاروں عزاداروں نے بدیدہ ٔ نم ماتم کا نذرانہ پیش کیا۔حیدرآباد میں تاریخی بی بی کے علم کے جلوس کے علاوہ مختلف مقامات پر مجالس یاد حسینؓ و جلسہ ہائے شہدائے کربلا منعقدکرتے ہوئے معرکۂ حق و باطل کے حقیقی پیام سے نوجوان نسل کوآشنا کرواتے ہوئے انہیں سیرت امام حسین ؓ کا مطالعہ کرنے اور اپنی زندگی میں سردار نوجوانان بہشت کے کردار کو پیدا کرنے کی تلقین کی گئی ۔ معرکۂ کربلا جو کہ معرکۂ حق و باطل ہے اس میں حق پر رہنے والوں نے اپنی زندگیوں کو قربان کرتے ہوئے امت کے لئے تاریخ رقم کی اور اسلام کی تعلیمات کو مسخ کرنے کی کوشش کرنے والوں کے چہروں سے نقاب الٹ گئے ۔ تاریخی بی بی کے علم کے جلوس کے دوران مختلف شخصیات کی جانب سے بی بی کے علم کو ڈھٹی اور نذر پیش کی گئی ۔ جلوس کے دوران مختلف ماتمی گروہان و انجمنوں کی جانب سے نوحہ اور ماتم کے نذرانے پیش کئے گئے ۔ انجمن معصومین کی جانب سے ماتم اور نوحہ گری کا نذرانہ پیش کیا گیا۔ پرویز انجمن پروانۂ شبیر ‘ انجمن حیدریہ‘ انجمن عون و محمد‘ گروۂ شیدائے شبیر‘ گروۂ کاظمی‘ انجمن پروانۂ قاسم‘ گروۂ جعفری‘ انجمن علوی‘ انجمن اشرف‘ انجمن ایرانیان دکن‘ گروۂ جعفری آغاعباسی‘ شیدائے علی اصغر‘ گروۂ ابوالفضل العباس کے علاوہ دیگر انجمنیں اور ماتمی گروہان بی بی کے علم کے ہمراہ موجود تھے۔ تاریخی بی بی کے علم کے ہاتھی پر مجاورحسن الدین اعجاز کے علاوہ علمبردار جناب قمر حسن رضوی موجود تھے۔ دبیر پورہ بی بی کے الاوہ سے علم مبارک کے برآمد ہونے سے قبل الاوہ بی بی میں مجلس عزاء بپا ہوئی ۔بی بی کے الاوہ سے شروع ہوا بی بی کے علم کا جلوس شیخ فیض کی کمان‘ اعتبار چوک‘ کوٹلہ عالیجاہ‘ سردار محل سے ہوتا ہوا چارمینار پہنچا۔ چارمینار سے بی بی کا علم کا جلوس گلزار حوض‘ پنجہ شاہ ولایت ‘ قدم رسول ؐ سے گذرتے ہوئے منڈی میر عالم پہنچااور منڈی میر عالم سے ہوتا ہوا دارالشفاء ‘ کالی قبر‘ چادر گھاٹ پہنچ کر اختتام کو پہنچا۔قبل ازیں پرانی حویلی میں حسب روایت قدیم مکرم جاہ ایجوکیشنل اینڈ لرننگ ٹرسٹ اور آصف جاہی خانوادہ کی جانب سے نواب میر عظمت جاہ بہادر آصف نہم نے بی بی کے علم کو ڈھٹی پیش کی اس موقع پر ان کے ہمراہ جناب فیض خان ٹرسٹی ‘ جناب میر ذوالفقار علی رکن اسمبلی چارمینار کے علاوہ دیگر موجود تھے ۔ بی بی کے علم کے جلوس کیلئے محکمہ پولیس ‘ مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد ‘ محکمہ آبرسانی ‘ محکمہ برقی کے علاوہ دیگر محکمہ جات کی جانب سے خصوصی انتظامات کئے گئے تھے۔پرانی حویلی کے قریب صدرنشین تلنگانہ ریاستی وقف بورڈ جنابعظمت اللہ حسینی‘ چیف ایکزیکٹیو آفیسر تلنگانہ ریاستی وقف بورڈ جناب شیخ لیاقت حسین‘اور دیگر نے بی بی کے علم کونذر و ڈھٹی پیش کی ۔چارمینار کے دامن میںمحترمہ سانتھی کماری چیف سیکریٹری حکومت تلنگانہ ‘ کمشنر پولیس حیدرآبادمسٹر کے سرینواس ریڈی کے علاوہ دیگر اعلیٰ پولیس عہدیداروں کے ہمراہ بی بی کے علم کے جلوس کا خیر مقدم کیا اور خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے نذر پیش کی ۔ قدیم دفتر بلدیہ کے روبرو مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد نے بی بی کے علم کو نذر اور ڈھٹی پیش کیگئی۔جلوس کے اختتام کے بعدمیدان نینوا بالسیٹی کھیت میں مرکزی مجلس پرسہ و شام غریباں منعقد ہوئے اس مجلس سے مولانا حیدر زیدی قبلہ نے مصائب کربلا بیان کئے‘ مولانا وحید الدین حیدر جعفری نے بھی مجلس شام غریباں سے خطاب کیا ۔اس کے علاوہ دونوں شہروں حیدرآباد و سکندرآباد کی مختلف خانقاہوں و بارگاہوں میں جلسہ ہائے شہدائے کربلا کے علاوہ اجتماعی دعائے عاشورہ کا اہتمام کیا گیا تھا۔ جامع مسجد دارالشفاء میں مولانا محمد حسام الدین ثانی جعفر پاشاہ کی زیر نگرانی جلسہ ٔ شہدائے کربلا منعقد ہوا جبکہ طریقت منزل میںنبیرۂ حضرت سید افتخار علی شاہ وطنؒ مولانا سید شاہ انوار اللہ حسینی افتخاری کی زیر نگرانی سالانہ قدیم مجلس یوم شہادت منعقد کی گئی ۔ خانقاہ قادریہ قادری چمنمولانا سیدحسن ابراہیم حسینی سجاد پاشاہ کی زیر نگرانی اجتماعی دعائے عاشورہ کا اہتمام کیا گیا ۔ اس کے علاوہ شہر کے مختلف مقامات پر آثار شریف کی زیارت کا بھی اہتمام کیا گیا تھا جہاں شہدائے کربلا کے موئے مبارک و دیگر تبرکات کی زیارت کا اہتمام کیا گیا تھا اور مجالس ذکر حسینؓ و شہدائے کربلا منعقد کی گئی۔خانقاہ حضرت بحرالعلوم محمد حسرت صدیقی ؒ واقع صدیق گلشن کے علاوہ شہر کی کئی خانقاہوں میں اجتماعی دعائے یوم عاشورہ کا اہتمام عمل میں لایاگیا۔ خانقاہ باقریہ عید گاہ میر عالم میں مولانا سید حیدرعلی حسینی قادری حیدرپاشاہ کی نگرانی میں آثار شریف کی زیارت کروائی گئی اور دعائے عاشورہ کا اہتمام کیا گیا۔3