شہر حیدرآباد میں شادی سے قبل ’ میریج ہیلت چیک اَپ ‘کلچر کوفروغ

   

Ferty9 Clinic

فی الحال پاش علاقوں تک محدود، والدین چار ٹسٹ رپورٹس طلب کررہے ہیں
حیدرآباد۔/12اگسٹ، ( سیاست نیوز) شادی بیاہ ایک ایسا اٹوٹ رشتہ ہے جو شادی کے بندھن میں بندھ جانے والے جوڑے کے ایک دوسرے کے بھروسہ اور اعتماد کے ساتھ آہستہ آہستہ آگے بڑھتے ہوئے مزید مستحکم ہوتا ہے۔ تاہم حالیہ دنوں میں شہر حیدرآباد میں ایک نیا کلچر بڑی تیزی سے فروغ پارہا ہے جہاں شادی سے قبل لڑکے اور لڑکی کے والدین ’میریج ہیلت چیک اَپ‘ پروفائیل کو خاص اہمیت دے رہے ہیں۔ فی الحال یہ کلچر شہر کے پاش علاقوں تک محدود ہے مگر مستقبل میں یہ کلچر تیزی سے فروغ پانے کو ہرگز نظرانداز نہیں کیا جاسکتا، اس کی کئی وجوہات بھی ہیں۔ ماحولیاتی تبدیلی کے نتیجہ میں عوام بالخصوص شہری عوام مختلف بیماریوں کا شکار ہورہے ہیں جس کے ازدواجی زندگی پر اثرات مرتب ہورہے ہیں۔ کئی خاندان ایسے ہیں جو بیماریوں کو چھپاتے ہوئے شادی کررہے ہیں جس کے بعد شادی شدہ جوڑے کئی مسائل سے دوچار ہیں۔ کئی جوڑے اولاد سے بھی محروم ہیں ۔ شہر میں ایک سروے کرایا گیا ہے جس میں انکشاف ہوا ہے کہ پاش علاقوں میں رہنے والے زیادہ تر تعلیم یافتہ افراد اپنے بچوں کی ازدواجی زندگی کو خوشحال بنانے کیلئے شادی سے قبل لڑکے و لڑکی کے ہیلت چیک اَپ رپورٹس طلب کررہے ہیں۔ ہیلت رپورٹس کو اپنے فیملی ڈاکٹرس سے رجوع کررہے ہیں اور ان کے گرین سگنل دینے پر ہی شادی کی بات کو آگے بڑھا رہے ہیں۔ رپورٹ میں کوئی نقص ہو تو رشتے توڑ بھی لئے جارہے ہیں۔ سروے میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ شادی سے پہلے چار ٹسٹوں کو زیادہ اہمیت دی جارہی ہے: ٹسٹ نمبر (1) ’ ایس ٹی ڈی ‘ سیکسولی ٹرانسمیٹیڈ ڈیزیز ، اس ٹسٹ کے ذریعہ ایڈز، سیلس ، گنریا کے علاوہ دوسرے امراض کا پتہ چلتا ہے اور یہ ایک دوسرے کو پھیلنے کا امکان ہے، بچے تولد نہ ہونے کا بھی امکان ہے۔ ٹسٹ نمبر (2) ایچ ای بی ۔ ہیموگلوبن الٹر اکوٹ فورسیس ٹسٹ ، اس ٹسٹ کے ذریعہ تھیلیسمیا، میکل سیل ڈیزیز کے بارے میں معلومات ہوتی ہیں۔ اگر لڑکا اور لڑکی دونوں میں یہ پائے جاتے ہیں تو بچے بھی اس کا شکار ہوسکتے ہیں۔ ٹسٹ نمبر(3) فرٹیلیٹی ٹسٹ ، اس ٹسٹ سے بچوں کی پیدائش کی گنجائش کا اندازہ ہوجاتا ہے۔ جنیٹک ڈیزیز کے چیک اَپ سے فیملی امراض کا بھی پتہ چل جاتا ہے۔ ٹسٹ نمبر (4) ’ سی بی سی ‘ کمپلیٹ بلڈ سل کاونٹ۔ گردے اور جگر کی کارکردگی اور شوگر کا بھی پتہ چل جاتا ہے۔ عثمانیہ ہاسپٹل کی ڈاکٹر پرتیبھا لکشمی نے کہا کہ صحت مند شادی شدہ زندگی گذارنے کیلئے ہیلت چیک اَپ کرانا لازمی ہوگیا ہے۔ شادی سے قبل امراض کو پوشیدہ رکھنا بھی غیر اخلاقی ہے۔ بعد میں پتہ چلنے سے اختلافات پیدا ہوسکتے ہیں۔ ایسے بھی واقعات سامنے آئے ہیں کہ ہیلت پروفائیل دریافت کرنے پر لوگوں نے غصہ سے رشتوں کو ٹھکرایا ہے اور ساتھ ہی شادی طئے ہونے کے بعد میڈیکل رپورٹس کی وجہ سے بھی رشتے ٹوٹے ہیں۔