شہر حیدرآباد میں مفت وائی فائی کا پراجکٹ غیر کارکرد

   

سرکاری دفاتر ، اسکولس ، پولیس اسٹیشن ، سیاحتی مراکز اور مالس انٹرنیٹ کی سہولت سے محروم
حیدرآباد :۔ چار سال قبل ڈیجیٹل تلنگانہ کے تحت شہر حیدرآباد میں وائی فائی پراجکٹ شروع کیا گیا ۔ شہر کے تمام سرکاری دفاتر ، اسکولس ، آفسوں ، پولیس اسٹیشن ، سیاحتی مقامات ، شاپنگ مالس میں ہاٹ اسپاٹس قائم کرتے ہوئے 3 ہزار ہاٹ اسپاٹس کے فری وائی فائی دینے اور 300 کروڑ روپئے خرچ ہونے کا اندیشہ ظاہر کیا گیا ۔ محکمہ آئی ٹی کے پرنسپل سکریٹری جیش رنجن جون 2017 میں اس کا اعلان کیا تھا اور اس وقت ٹینک بینڈ ، نکلس روڈ کے علاوہ چند سیاحتی مقامات پر وائی فائی ہاٹ اسپاٹس کا آغاز کیا گیا تھا ۔ اس کے لیے خانگی ایجنسیوں کو فنڈز بھی مختص کئے گئے تھے ۔ لیکن چار سال مکمل ہونے پر ابھی تک کوئی بھی پیشرفت نہیں ہوئی ۔ ڈیجیٹل تلنگانہ پراجکٹ کے لیے حکومت نے خطیر رقم مختص کی ہے ۔ اس سلسلے میں حیدرآباد ، ورنگل ، کریم نگر اور کھمم ضلع ہیڈکوارٹرس پر مفت انٹرنیٹ کی فراہمی کے لیے بڑے پیمانے پر ہاٹ اسپاٹس قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا اور چار سال قبل ہی حیدرآباد سٹی وائی فائی پراجکٹ کا بڑے پیمانے پر آغاز کیا گیا ۔ افتتاحی تقریب میں جوش و خروش کا مظاہرہ کرنے والے محکمہ آئی ٹی اور جی ایچ ایم سی کے عہدیدار بعد میں اس پراجکٹ کو فراموش کرچکے ہیں ۔ 3 ہزار مقامات پر ہاٹ اسپاٹس کا اہتمام کیے بغیر خانگی ایجنسیوں کو رقم ادا کرچکے ہیں ۔ 10 ایم بی پی ایس کے اسپیڈ سے 30 منٹ تک وائی فائی کے ذریعہ مفت انٹرنیٹ کی سہولت فراہم کرنے کا اعلان کیا گیا تھا ۔ مگر ساری ذمہ داری خانگی ایجنسیوں پر چھوڑ دی گئی ۔ جب کہ محکمہ آئی ٹی کا دعویٰ ہے کہ حیدرآباد میں اس پراجکٹ پر عمل آوری ہورہی ہے ۔ 3 ہزار مقامات پر ہاٹ اسپاٹس کا قیام عمل میں لایا گیا ہے ۔ اس کی تمام تفصیلات ہماری سرکاری ویب سائیٹ پر موجود ہے اور جس میں ہاٹ اسپاٹس کے پتہ بھی درج ہے ۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ کہیں بھی اس پر عمل نہیں ہورہا ہے ۔۔