تعمیراتی شعبہ کے شدید متاثر ہونے کا اندیشہ ، ہوٹلوں و دیگر کاروبار کے لیے بھی مشکلات
حیدرآباد۔5مئی(سیاست نیوز)شہر حیدرآباد سے مجموعی اعتبار سے 45 فیصد مزدور طبقہ اپنے آبائی وطن واپس جانے کے لئے تیار ہے اور شہر حیدرآباد میں خدمات انجام دینے والے ان مزدوروں کی واپسی کے بعد جوصورتحال پیدا ہوگی اس صورتحال کا سامنا کرنا کئی شعبوں کے لئے انتہائی دشوار کن ہوگا کیونکہ مزدور کے بغیر ان شعبوں کی ترقی بلکہ کشادگی ہی ممکن نہیں ہوگی۔ ماہرین کے مطابق جو مزدور اپنے آبائی مقام پر واپس ہورہے ہیں ان کی مجموعی تعداد کو اگر تقسیم کیا جائے تو 20تا25 فیصد تعمیری مزدور واپس ہونے والوں میں شامل ہیں جبکہ روزمرہ کے اساس پر ہوٹلوں اور دیگر مقامات پر کام کرنے والے مزدوروں کی تعداد کا جائزہ لئے جانے پر یہ بات سامنے آرہی ہے کہ 12تا15 فیصد ایسے مزدور اپنے آبائی مقامات کو واپس ہونے والے ہیں جو کہ ہوٹلوں اور دیگر مقامات پرخدمات انجام دیا کرتے تھے۔بنگال اور اترپردیش کے علاوہ بہار سے تعلق رکھنے والے مزدوروں میں نقاش ‘ زردوزی کے علاوہ کارچوب کا کام انجام دینے والے مزدور شامل ہیں جو کہ اپنے آبائی مقام کو واپس ہونے کے منتظر ہیں ان کے اپنے گروپ کا کہناہے کہ ان کی مجموعی تعداد جو شہر میں ہے ان میں 50 فیصد سے زیادہ مزدور واپسی کے خواہشمند ہیں کیونکہ انہیں اب دولت ‘ کمائی یا روزگار کی فکر نہیں ہے بلکہ ان کی ترجیح خاندان ہے اور وہ ان حالات میں خاندان کے ساتھ وقت گذارنے کے حق میں ہیں۔صنعتکاروں کا کہناہے کہ شہر حیدرآباد میں موجود مزدور طبقہ کی واپسی کے انتظامات کے ذریعہ ریاستی حکومت صنعتوں کو مقفل کرنے کے انتظامات کررہی ہے کیونکہ جب لاک ڈاؤن ختم ہوگا تو ان صنعتی ادارو ںمیں خدمات انجام دینے کے لئے ہنر مند مزدور موجود نہیں رہے گا جس کے سبب صنعتی اداروں کا نقصان کا سامنا کرنا پڑے گا اور س کے بالواسطہ نقصانات حکومت برداشت کرنے پڑیں گے۔ریاستی ومرکزی حکومت کی جانب سے مزدوروں کی واپسی کے انتظامات پر صنعتکار تنقید کر رہے ہیں اور کہا جا رہاہے کہ حکومت کو ان کی واپسی کے بجائے انہیں جہاں ہیں وہاں ممکنہ سہولتوں کی فراہمی یقینی بنانے کے اقدامات کرنے چاہئے تھے کیونکہ اگر وہ اپنے مقامات پر واپس چلے جاتے ہیں تو صنعتی اداروں میں ہنر مند مزدور فوری دستیاب نہیں ہوگا اور نہ ہی لاک ڈاؤن کے ختم ہوتے ہی یہ مزدور واپس ہوں گے اسی لئے جہاں تک ممکن ہوسکے مزدوروں کی منتقلی سے زیادہ ان کی اسی مقام پر بازآبادکاری کو یقینی بنانے کے اقدامات کئے جانے چاہئے ۔بتایاجاتا ہے کہ تعمیری مزدوروں کی جانب سے آبائی مقام کو واپسی کے سبب جو صورتحال پیدا ہوگی اس کے منفی اثرات رئیل اسٹیٹ شعبہ پر مرتب ہوں گے اسی طرح جب ملک بھر میں تعمیری مزدوروںکی واپسی کا عمل شروع کیا جائے گا اس وقت جو کام جاری ہیں وہ بھی بند ہونے لگ جائیں گے۔ہوٹلوں اور دیگر مقامات پر خدمات انجام دینے والے اڈیشہ ‘ آسام اوراتر پردیش کے مزدوروں کی واپسی کی صورت میں جو صورتحال پیدا ہوگی اس کے متعلق کہا جا رہا ہے کہ شہر کی کئی سرکردہ ہوٹلوں میں سیلف سروس شروع کرنی پڑسکتی ہے اور عوام کو ہوٹلوں میں ویسی خدمات دستیاب نہیں ہوں گی جو لاک ڈاؤن سے پہلے حاصل ہوا کرتی تھی۔دونوں شہروں حیدرآباد و سکندرآباد سے مزدوروں کی واپسی کی صورت میں صنعتی اداروں کے علاوہ تجارتی اداروں کو بھی سنگین نقصانات کا سامنا کرنا پڑے گا اور اس کا حل نکالنا کسی کے بس کی بات نہیں ہے۔
