لاکھوں افراد بیروزگار ہوجائیں گے، محمد علی شبیر کی پریس کانفرنس
حیدرآباد: تلنگانہ قانون ساز کونسل کے سابق اپوزیشن لیڈر محمد علی شبیر نے الزام عائد کیا کہ حکومت شہر کے مضافاتی علاقوں میں 11 انڈسٹریل پارکس کے لئے الاٹ کردہ اراضی کو خانگی کمپنیوں کو فروخت کر رہی ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ آئی ٹی پارکس کے نام پر صنعتی اداروںکیلئے الاٹ کردہ اراضی فروخت کی جارہی ہے۔ میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے محمد علی شبیر نے کہا کہ حکومت نے سابق میں الاٹ کردہ اراضی کے قواعد میں تبدیلی کرتے ہوئے کوکٹ پلی ، گاندھی نگر ، بالا نگر ، اپل ، ناچارم ، ملا پور، مولاعلی ، پٹن چیرو، رام چندرا پورم ، صنعت نگر اور کاٹے دھان علاقوں میں موجود صنعتی اراضی کو فروخت کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو اراضی کی تبدیلی کا اختیار حاصل نہیں ہے۔ وزیر انفارمیشن ٹکنالوجی کے ٹی راما راو خانگی کمپنیوں کو فائدہ پہنچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صنعتوں کے قیام سے نوجوانوں کو روزگار حاصل ہوسکتا ہے لیکن حکومت کو نوجوانوں کی فکر نہیں بلکہ اپنے قریبی اداروں کو فائدہ پہنچانا اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے کہا کہ مذکورہ علاقوں میں کئی برسوں سے چھوٹی اور متوسط صنعتیں قائم ہیں۔ کورونا لاک ڈاؤن کے نتیجہ میں ان صنعتوں کو بھاری نقصان ہوا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت صنعتوں کی مدد کرنے کے بجائے انہیں ختم کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ انہوں نے انفارمیشن ٹکنالوجی کے شعبہ میں ترقی سے متعلق حکومت کے دعوؤںکو مسترد کردیا اور کہا کہ کورونا وباء کے آغاز کے بعد سے آئی ٹی شعبہ میں لاکھوں نوجوان روزگار سے محروم ہوگئے ۔ انہوں نے حکومت کو مشورہ دیا کہ چھوٹی اور متوسط صنعتوں کی حوصلہ افزائی کی جائے۔ کانگریس دورحکومت میں مارچ 2013 ء میں احکامات جاری کرتے ہوئے آلودگی کا سبب بننے والی کمپنیوں کو اوٹر رنگ روڈ کے باہری علاقہ میں منتقل کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ کئی دہوں سے کام کرنے والی چھوٹی اور متوسط صنعتوں میں لاکھوں افراد کا روزگار وابستہ ہیں لیکن حکومت انہیں ختم کرنا چاہتی ہے۔ حکومت آئی ٹی شعبہ کو اراضی الاٹمنٹ کے ذریعہ صنعتوں سے وابستہ افراد کو مستقل طور پر بیروزگار کرناچاہتی ہے۔