شہر میں آوارہ کتوں کی کثرت ، اہم سڑکیں اور محلے متاثر

   

راہگیروں اور عوام کو مشکلات کا سامنا ، جی ایچ ایم سی کے اقدامات ندارد
حیدرآباد۔ شہر میں آوارہ کتوں کی کثرت راہگیروں اور شہریوں کو پریشان کی ہوئی ہے اور شہر کی کئی اہم سڑکوں کے علاوہ محلہ جات میں آوارہ کتوں کی بہتات کے باوجود مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کی جانب سے کتوں کو پکڑنے کوئی اقدامات نہیں کئے جا رہے ہیں ۔ شہر کے کئی علاقوں میں رات کے اوقات میں راہگیروں کا گذرنا دشوار ہوتا جا رہا ہے کیونکہ سنسان سڑکوں پر کتوں کی بہتات اور کتوں کے غول حملہ کرنے لگے ہیں جس سے حادثات پیش آرہے ہیں۔ پارنی حویلی ساؤتھ زون ڈسی سی پی کے دفتر کے روبرو روزانہ رات کے اوقات میں کتوں کے غول سڑکوں پر قبضہ کئے ہوتے ہیں اسی طرح کی صورتحال بندلہ گوڑہ ‘ سوماجی گوڑہ ‘ عطا پور‘ مصری گنج کے علاوہ کئی رہائشی علاقوں اوراہم سڑکوں پر دیکھی جا رہی ہے ۔ لاک ڈاؤن کے دوران کئی علاقوں میں کتوں کی کثرت کے سلسلہ میں متعدد شکایات ملی تھیں اور اب ان شکایات میں اضافہ ہورہا ہے۔ شہر بالخصوص پرانے شہر کے علاوہ نئے شہر کے رہائشی علاقوں میں آوارہ کتوں کی کثرت سے مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ رات کے اوقات میں یہ آوارہ کتے راہگیروں پر حملہ آور ہونے لگے ہیں جبکہ دن کے اوقات میں پالتوں جانوروں کو آوارہ کتے اپنا شکار بنانے لگے ہیں۔ بلدیہ حیدرآباد میں کتوں کو پکڑنے کا علحدہ شعبہ ہے لیکن حالیہ عرصہ میں کسی بھی علاقہ میں کتوں کو پکڑنے گاڑیاں نظر نہیں آرہی ہیں اور جی ایچ ایم سی کو شکایات کے باوجود کتوں کو پکڑنے اقدامات نہیں کئے جا رہے ہیں۔ شہر کے رہائشی علاقوں میں رات کے سناٹے میں کتوں کا خوف پیدا ہونے لگا ہے کیونکہ سڑکوں پر قبضہ کرنے والے آوارہ کتوں کی جانب سے راہگیروں پر بھونکنے کے علاوہ ان پر حملہ کے واقعات پیش آنے لگے ہیں۔ جی ایچ ایم سی کو شہر کے تمام محلہ جات اور سڑکوں پر رات کے اوقات میں کتوں کو پکڑنے خصوصی مہم شروع کرنے کی ضرورت ہے اور ایسا کرتے ہوئے شہریوں کو کتوں کی دہشت سے نجات دلوائی جا سکتی ہے ۔ جی ایچ ایم سی زونل کمشنراں کے حدود میں آوارہ کتوں کی کثرت کی شکایت عام ہوتی جا رہی ہے اور ان حالات میں اگر بلدیہ سے خاموشی اختیار کی جاتی ہے تو کتوں کے حملوں کے واقعات میں اضافہ ہونے کا خدشہ ہے۔