نشہ اور گانجہ کا چلن عام ہونے سے جرائم میں اضافہ ۔ پولیس کی محدود کارروائیاں بے اثر ۔ سخت اقدامات ناگزیر
حیدرآباد 23 مارچ (سیاست نیوز) شہر حیدرآباد میں امن و ضبط کی صورتحال دن بہ دن بگڑتی جارہی ہے ۔ شہر میں پیش آرہے واقعات سے شہریوں میں عدم تحفظ کا احساس اور خوف و دہشت پیدا ہوگئی ہے۔ نشہ کی بڑھتی لعنت ، غنڈہ گردی ، جبراً وصولی اور غیر قانونی سرگرمیاں ان دنوں عروج پر ہیں جو پولیس کی کارکردگی پر سوالیہ نشان بن رہے ہیں بلکہ اکثر شہریوں کا احساس ہے کہ خود پولیس مبینہ طور پر ان سرگرمیوں سے منہ موڑ رہی ہے جس کے سبب ایسے واقعات بڑھتے جارہے ہیں۔ بالخصوص پرانے شہر میں پولیس کی کارروائیاں برائے نام ہوگئی ہیں۔ گزشتہ ایک دو دن میں دو اقدام قتل اور ایک قتل کے واقعہ سے شہریوں میں خوف و دہشت پیدا ہوگئی ہے ۔ حدود کے مسائل سے مشکلات کی دہائی دینے والی پولیس کیلئے اب یہ بہانہ بھی نہیں رہا۔ چونکہ چند علاقوںکو جیسے مائیلاردیوپلی ، راجندر نگر ،شاہین نگر ، وٹے پلی ، بالا پور اور عطا پور کو حیدرآباد میں شامل کرلیا گیا ، باوجود اس کے پولیس کی کارکردگی میں بہتری نہیں آئی بلکہ غیر سماجی سرگرمیاں عروج پر پہنچ رہی ہیں۔ گزشتہ دنوںپرانے شہر بھوانی نگر پولیس میں اقدام قتل کا واقعہ پیش آیا جو گانجہ ٹولی کا واقعہ بتایا جارہا ہے اور کل سنتوش نگر حدود میں قتل اور آج عطا پور میں گانجہ استعمال کرنے والی ٹولی نے تو انسانیت کی ساری حدیں پار کردی ، اس ٹولی کی حرکت نے نہ صرف بستی میں دہشت مچادی بلکہ پولیس کو کھلا چیلنج کردیا۔ گانجہ کے خلاف شعور بیداری مہم کو بھی شدید دھکہ لگا ۔ عطا پور میں گانجہ استعمال کرنے والی ٹولی نے گانجہ کے استعمال پر اعتراض و نصیحت پر پڑوسیوں پر حملہ کردیا ۔ بیچ بچاؤ کرنے والے ایک شخص پر چاقو سے حملہ کردیا اور اس قدر چاقو مارا کہ چاقو ٹوٹ کر زخمی شخص کے پیٹھ میں رہ گیا ۔ اعتراض کرنے والے شخص کے مکان پر حملہ کیا گیا اور پٹرول چھڑک کر اس کے گھر کو آگ لگانے کی کوشش کی گئی ۔ عطا پور پولیس نے بالآ خر کارروائی کا دعویٰ کیا ہے۔ پرانے شہر کے سنتوش نگر حدود میں کل رات 31 سالہ سید لئیق کا قتل کردیا گیا ۔ لئیق کے ساتھیوں نے اس پر حملہ کرکے قتل کیا ، حالانکہ لئیق کے قتل میں بھی اصل وجہ گانجہ ہی ہے ۔ گانجہ کے مقدمہ میں جیل سے باہر آئے ایک ملزم نے لئیق سے دشمنی پیدا کرلی۔ جیل اور سزا کی اصل وجہ کا لئیق کو ذمہ دار مانتا تھا ۔ اس وجہ سے سازش تیار کرکے لئیق کا قتل کیا گیا ۔ اس سلسلہ میں اے سی پی سنتوش نگر سکھدیو سنگھ ٹھاکر کا کہنا ہے کہ نجیب الرحمان ، عادل ، مجو معاملہ اور دیگر کی تلاش جاری ہے۔ بھوانی نگر میں اقدام قتل کا معاملہ میں بھی گانجہ بیاچ کی کارستانی تھی ۔ شہر میں یہ واقعات شہریوں میں عدم تحفظ کا احساس پیدا کر رہے ہیں اور شہر کی حالت بگڑتی جارہی ہے۔ پولیس پر الزام ہے کہ وہ برائے نام کارروائی کر رہی ہے جبکہ اصل وجہ نشہ و گانجہ کے چلن پر کوئی توجہ مرکوز نہیں کرتی۔ پولیس کی جانب سے ملزمین کی جیل سے رہائی کے بعد ان پر نظر رکھنے اور کارروائی کا دعویٰ کیا گیا تھا ، اس پر بھی عمل نہیں کیا جارہا ہے جس کے سبب سنگین نتائج برآمد ہورہے ہیں جبکہ گانجہ کے خلاف کارروائی میں پولیس بڑی کارروائیوں میں کامیابی کا دعویٰ کرتی ہے ۔ باوجود اس کے شہر میں گانجہ عام ہوتا جارہا ہے۔ ایسی صورت میں کمشنر پولیس کو چاہئے وہ موثر اقدامات کریں۔ع