مرکز کی مدد سے بسیں حاصل کرنے آرٹی سی کا فیصلہ ۔ آلودگی پر قابو پانے اقدامات
حیدرآباد ۔ /3 اگست (سیاست نیوز) حیدرآباد میں بڑھتی ماحولیاتی آلودگی کے انسداد کیلئے آر ٹی سی بیاٹری سے چلنے والی (334) بسیں چلانے کا منصوبہ رکھتی ہے ۔ واضح رہے کہ برقی سے چلنے والی بسوں کو چلانے کا مرکزنے فیصلہ کیا اور ان کی خریدی کیلئے رعایتوں کا بھی اعلان کیا ۔ ’فاسٹر اڈاپشن اینڈ مینوفیکچرنگ آف الیکٹرک وہیکلس ان انڈیا‘‘ اسکیم کے دوسرے مرحلہ کے تحت تلنگانہ آر ٹی سی کی تجاویز پر مرکز نے جملہ (334) بیاٹری بسوں کی منظوری دی ۔ سابق میں بھی اسی اسکیم کے تحت آر ٹی سی کو (100) بیاٹری بسوں کی منظوری کے باوجود (40) بسیں ہی فراہم کی گئی تھیں ۔ یہ تمام بسیں ایرکنڈیشنڈ ایرپورٹ کیلئے چلائی جارہی ہیں ۔ لیکن اب (334) بسوں کو حاصل کرکے شہر کے مختلف مقامات پر (309) بسیں سٹی بس کے طور پر چلانے کا فیصلہ کیا گیا۔ ماباقی بسوں کو ورنگل میں چلانے کا آر ٹی سی نے فیصلہ کیا ہے ۔ ذرائع کے مطابق شہر میں گاڑیوں کی تعداد (60) لاکھ سے تجاوز کرگئی ہے ۔ اس صورتحال میں شہر کے مختلف مقامات سے میٹرو ریل کے پیش نظر طویل فاصلہ طئے کرنے والی ذاتی گاڑیوں (بشمول موٹر سیکلیں اور موٹر گاڑیوں) کی تعداد میں کمی کی توقع کی جارہی تھی ۔ لیکن یہ امید افزا نہیں رہی ۔اسی دوران آر ٹی سی ذرائع کے مطابق کچھ عرصہ سے آر ٹی سی کو خسارہ کے باعث نئی بسوں کی خریدی سے گریز کیا جارہا تھا اور ایرکنڈیشنڈ بسوں میں سفر سے مسافروں کی عدم دلچسپی سے بھی خسارہ ہورہا تھا ۔ اب تمام حالات کا جائزہ لینے کے بعد انتظامیہ نے بیاٹری سے چلنے والی نان اے سی بسیں چلانے کا فیصلہ کیا ہے اور بہت جلد ان بسوں کا آغاز کیا جائے گا ۔ اب بیاٹری سے چلنے والی نان اے سی بسیں کرایہ کی اساس پر خانگی آپریٹرس سے حاصل کی جائیں گی ۔ اب نان اے سی فی بس کی قیمت (1.75) کروڑ روپئے ہے ۔ نان اے سی بس کیلئے جملہ (50) لاکھ روپئے کی رعایت مرکزی حکومت فراہم کررہی ہے ۔ کمزور مالی موقف کے پیش نظر مرکز کی رعایت خانگی آپریٹر کو منتقل کرکے ان کے ذریعہ بسیں حاصل کی جائیں گی اور ان کی نگہداشت و ذمہ داری آپریٹر پر ہوگی اور ان پر مقررہ شرح سے آر ٹی سی خانگی آپریٹر کو کرایہ ادا کرے گی ۔
