تلنگانہ حکومت کو گزشتہ سال ڈسمبر تا جاریہ سال جون 4670کروڑ 52 لاکھ روپے کی ریکارڈ وصولی
حیدرآباد۔10جولائی (سیاست نیوز) دونوں شہر وں حیدرآباد و سکندرآباد بالخصوص حیدرآباد میٹرو پولیٹین ڈیولپمنٹ اتھاریٹی اور مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کے حدود میں جائیدادوں کے رجسٹریشن سے ہونے والی آمدنی میں گذشتہ 7ماہ کے دوران اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے اور جاریہ سہ ماہی کے دوران بھی اس میں اضافہ کے امکانات پائے جاتے ہیں۔ ریاستی حکومت کو حیدرآباد میٹرو پولیٹین ڈیولپمنٹ اتھاریٹی کے حدود میں ڈسمبر سے جون کے دوران ہونے والی آمدنی 4670کروڑ 52 لاکھ روپے ریکارڈ کی گئی ہے جبکہ سال گذشتہ اس مدت کے دوران 4429 کروڑ 23لاکھ روپے آمدنی ہوئی تھی ۔ حکومت تلنگانہ کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق ایچ ایم ڈی اے حدود میں نئی تعمیرات کے لئے اجازت ناموں کی اجرائی میں بھی اضافہ ریکارڈ کیا جا رہاہے اور جائیدادوں کے رجسٹریشن میں بھی اضافہ ریکارڈ کیا جانے لگا ہے جو کہ ریاست کے رئیل اسٹیٹ میں مثبت اچھال کی علامت کے طور پر دیکھا جا رہاہے ۔ حیدرآباد میٹرو پولیٹین ڈیولپمنٹ اتھاریٹی کے حدود میں ڈسمبر 2022 تاجون 2023کے دوران جو آمدنی ریکارڈ کی گئی تھی اس آمدنی کے مقابلہ گذشتہ 7 ماہ کے دوران اسی مدت میں جو آمدنی ریکارڈ کی گئی ہے وہ سال گذشتہ کے مقابلہ 270کروڑ 86لاکھ زیادہ ہے۔ گذشتہ 7 ماہ کے دوران جملہ 2لاکھ 18ہزار160 جائیدادوں کا رجسٹریشن ریکارڈ کیاگیا جبکہ سال گذشتہ اسی مدت کے دوران محض 1لاکھ93ہزار962 جائیدادوں کا رجسٹریشن ہوا تھا جو کہ سال گذشتہ کے مقابلہ 12.5 فیصداضافہ ریکارڈ کئے جانے کے مترادف ہے۔بتایاجاتا ہے کہ جاریہ سال 7ماہ کے دوران 54 ہزار 111 فلیٹس کا رجسٹریشن ہوا ہے جبکہ سال گذشتہ اس مدت کے دوران 50 ہزار 535 فلیٹس کی فروخت ہوئی تھی ۔ اس طرح فلیٹس کی فروخت میں مجموعی طور پر 7 فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیاگیا ہے۔جی ایچ ایم سی اور ایچ ایم ڈی اے حدود میں 7 ڈسمبر 2023 تا 30جون 2024کے درمیان 18 ہزار77 عمارتوں کے تعمیری اجازت نامے جاری کئے گئے ہیں جبکہ مئی تا ڈسمبر کے درمیان 17 ہزار 911 عمارتوں کے تعمیری اجازت ناموں کی اجرائی عمل میں لائی گئی تھی ۔صرف جی ایچ ایم سی کے حدود میں گذشتہ 7 ماہ کے دوران 7 ہزار 809 عمارتوں کے تعمیری اجازت ناموں کی اجرائی عمل میں لائی گئی ہے جو کہ گذشتہ سے پیوستہ 7ماہ کے دوران جاری کئے گئے تعمیری اجازت ناموں کے مقابلہ میں 13.17 فیصد زیادہ ہے۔ تلنگانہ میں نئی حکومت کی تشکیل کے بعد سے اب تک رجسٹریشن کے ذریعہ ہونے والی آمدنی کا مشاہدہ کیا جائے تو اس میں زبردست اضافہ ریکارڈ کیا جا رہاہے جو کہ نہ صرف رجسٹریشن بلکہ نئے تعمیراتی اجازت ناموں کے علاوہ اسٹامپس کی فروخت سے ہورہی ہے۔ ماہرین کے مطابق ریاستی حکومت کی جانب سے دونوں شہروں حیدرآباد وسکندرآباد میں حکومت کی جانب سے ترقیاتی کامو ںکے اعلان بالخصوص موسیٰ ندی پراجکٹ اور میٹرو ریل راہداری کو شہر کے مختلف حصوں سے جوڑنے کے فیصلہ کے سبب حیدرآباد میٹرو پولیٹین ڈیولپمنٹ اتھاریٹی کے حدود میں جائیدادوں کی فروخت میں اضافہ ریکارڈ کیا جارہا ہے۔3