شہر میں جگہ جگہ کچرے کے انبار ، صحت عامہ کو خطرہ لاحق

,

   

کچرے کی نکاسی کا نظام 5 دن سے ٹھپ، بدبو، ڈینگو ، ملیریا سے عوام متاثر

حیدرآباد۔10۔ اکتوبر ( سیاست نیوز) شہریان حیدرآباد کی صحت اور شہر کی صفائی کا کسی کو خیال نہیں ہے ۔ مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد ہو یا منتخب عوامی نمائندے صحت عامہ کے متعلق بالکل بھی فکر مند نہیں ہیں اور نہ ہی انہیں اس بات کی پرواہ ہے کہ شہر کی سڑکوں پر جمع ہونے والے کچرے سے شہر کی کتنی آبادی متاثر ہورہی ہے۔ پرانے شہر کے علاقہ تالاب کٹہ کے 14 سالہ معصوم فرقان عادل کو گزشتہ 5 یوم سے شہر کے ایک سرکردہ ہاسپٹل میں ڈینگو کا علاج کروارہے تھے۔ آج ان کی موت واقع ہوگئی۔ گزشتہ پانچ یوم سے شہر حیدرآباد کی کئی اہم سڑکوں سے کچرہ کی نکاسی عمل میں نہیں لائی گئی ، اس سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ جب سڑکوں کی نکاسی عمل میں نہیں لائی جارہی ہے تو رہائشی علاقوں کی صورتحال کیا ہوگی۔ شہر حیدرآباد کے دواخانوں میں وبائی امراض سے شکار مریضوں کا اب بھی تانتہ بندھا ہوا ہے لیکن اس کے باوجود جی ایچ ایم سی کے اعلیٰ عہدیدار شہر کی صفائی پر توجہ نہیں کر رہے ہیں۔ شہر کی سڑکوں پر پائے جانے والے کچرہ کے انبار دیکھتے ہوئے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ شہر حیدرآباد میں صفائی کا کوئی نظم نہیں ہے اور نہ ہی کچرہ کی نکاسی کے سلسلہ میں کوئی اقدامات کئے جارہے ہیں ۔ حیدرآباد میں ماضی قریب میں بھی اگر اس طرح کی صورتحال پیدا ہوگی تو منتخبہ عوامی نمائندے احتجاج کیا کرتے تھے لیکن حالیہ عرصہ میں منتخبہ نمائندوں کی جانب سے کچرہ کی نکاسی کیلئے نمائندگی بھی نہیں کی جارہی ہے بلکہ اس سنگین مسئلہ کو نظر انداز کیا جانے لگا ہے ۔ جی ایچ ایم سی کی جانب سے روزانہ صفائی اور جاروپ کشی کے علاوہ کچرہ کی نکاسی کے دعوے کئے جاتے ہیں لیکن شہر کی سڑکوں کشن باغ ، چارمینار ، مغلپورہ ، دارالشفاء ، معظم جاہی مارکٹ ، تالاب کٹہ ، یاقوت پورہ ، پرانی حویلی ، قلعہ گولکنڈہ ، فلک نما، سمتا کالونی ، تاڑبن، کالا پتھر ، ٹولی چوکی میں کچرے کے انبار دیکھتے ہوئے یہ دعویٰ کے ساتھ کہا جاسکتا ہے کہ شہر میں روز مرہ کے اساس پر کچرہ کی نکاسی عمل میں نہیں آرہی ہے ۔ جی ایچ ایم سی عہدیداروں سے رابطہ قائم کرنے پر وہ یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ جہاں تک ممکن ہو کچرہ کی نکاسی و صفائی کے علاوہ جاروپ کشی کی جارہی ہے جبکہ شہر کی سڑ کیں بلدیہ کے کسی بڑے کوڑے دان میں تبدیل ہوچکی ہیں۔