شہر میں خانگی فینانسروں کا راج ، کھلے عام سڑکوں پر گاڑیاں ضبط

   

افراد خاندان کے سامنے رسوائی ، پولیس خاموش تماشائی ، شہریوں میں خوف و دہشت

حیدرآباد۔/17 اکٹوبر، ( سیاست نیوز) شہر میں خانگی فینانسروں کی سرگرمیاں شہریوں میں خوف و دہشت کا سبب بنی ہوئی ہیں۔ اب جبکہ درمیان سڑک گاڑی روکنے اور گاڑیوں کو ضبط کرنے کا اختیار خود پولیس کو نہیں رہا ایسی صورت میں کسی بھی وقت یہ خانگی فینانسرس اور کنٹینرس ( گاڑیوں ) کو ضبط کرنے والے شہریوں کو خوف و دہشت کا شکار بنارہے ہیں۔ بیچ راستے میں شہری کسی بھی حالت میں ہو انہیں روک لیا جارہا ہے۔ افراد خاندان بیوی بچوں کے سامنے رسواء کرتے ہوئے انہیں ذلیل کرنے اور مارپیٹ تک کی جانے لگی ہے۔ خانگی فینانسروں کی یہ سرگرمیاں شہر میں قانون اور امن و ضبط پر سوال بن گئی ہیں اور ان کی سرگرمیوں پر روک لگانے اور قابو پانے والا کوئی نہیں۔ پولیس بھی ان خانگی فینانسروں اور سیزر کی سرگرمیوں کے خلاف کارروائی میں مجبور دکھائی دے رہی ہے اور ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جارہی ہے جس کا نتیجہ یہ ثابت ہورہا ہے کہ سیزر کھلے عام سڑکوں پر گاڑیوں کو روک رہے ہیں اور گاڑیوں کو روکنے اور ضبط کرنے میں ٹریفک پولیس پر بازی لے جارہے ہیں۔ شہر میں ان دنوں خانگی فینانسرس عطا پور، آرام گھر، پراناپل، دال منڈی، گھوڑے کی قبر، مہدی پٹنم و دیگر علاقوں میں کسی بھی وقت نمودار ہورہے ہیں۔ گاڑی کو ضبط کرنے کیلئے انتہائی درجہ کی ہراسانی کی جاتی ہے۔ شہری کی جیب سے پیسے نکالے جاتے ہیں اور رقم کا حساب دوگنا بناکر پریشان کیا جانے لگا ہے۔ ان کے خلاف شکایتوں کے باوجود موثر کارروائی نہیں کی جاتی۔ اکثر شہریوں نے پولیس سے سوال کیا ہے کہ کیا وہ ازخود کارروائی ہیں کرسکتی چونکہ ایسے افراد کے خلاف شکایت کرنے کیلئے شہری آگے نہیں آتے۔ گاڑیوں کو ضبط کرنے اور حملہ کا خوف انہیں پریشان کرتا ہے۔ عطا پور، آرام گھر اور گھوڑے کی قبر علاقہ میں اس طرح کے واقعات ہر دن دیکھنے میں آرہے ہیں۔ سڑک پر تین تا چار افراد گروپ کی شکل میں موٹرسائیکلوں پر گھومتے ہیں ان کے ہاتھ میں ایک فہرست ہوتی ہے جو سیزر کہلاتے ہیں۔ ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرتے ہوئے اقساط باقی افراد کو روک لیا جاتا ہے اور انہیں اذیت پہنچائی جاتی ہے۔ حیدرآباد ، سائبرآباد اور راچہ کنڈہ پولیس کمشنران کو چاہیئے کہ وہ اپنی خصوصی ٹیموں کے ذریعہ کارروائی کرتے ہوئے خانگی سرگرمیوں پر روک لگائیں اور شہریوں کو راحت فراہم کرنے کے اقدامات کریں اور پولیس پر عائد کئے جارہے بدنامی کے اقدامات کا تدارک کریں۔ع