شہر میں خون کی قلت پیدا ہونے کا امکان

   

نوجوان ویکسین لینے کیلئے تیار، آئندہ تین ماہ مشکل کے ہوں گے

حیدرآباد ۔ کووڈ۔ 19 وباء ہی کچھ کم فکر والی نہیں ہے جبکہ خون کی قلت دواخانوں اور مریضوں کے لئے بڑی تشویش کی بات بن گئی ہے جو زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا ہیں۔ آنے والے مہینوں میں خون کی طلب میں اضافہ متوقع ہے جبکہ خون کا عطیہ دینے والوں کی تعداد میں بہت کمی ہوگی۔ شہر حیدرآباد میں ایک سال میں تقریباً 2.5 لاکھ یونٹس خون کی ضرورت ہوتی ہے لیکن یہ طلب دوگنی ہوسکتی ہے کیونکہ زیادہ سے زیادہ کووڈ مریض جلد صحت یابی کے لئے پلازما تھراپی پر انحصار کررہے ہیں۔ اس کے علاوہ تھلسیمیا، انیمیا کے مریضوں اور سڑک حادثات میں زخمی ہونے والوں کو بھی خون دینے کی ضرورت ہوتی ہے۔ بلڈ ڈونیشنس آرگنائزیشنس اور بلڈ بینکس کی جانب سے عوام سے درخواست کی جارہی ہیکہ وہ ویکسین لگانے سے قبل خون کا عطیہ دیں کیونکہ وہ پہلے اور دوسرے ٹیکہ کے بعد کم از کم تین مہینوں تک خون کا عطیہ نہیں دے سکتے ہیں۔ موجودہ حالت کے بارے میں بتاتے ہوئے حیدرآباد بلڈ ڈونر سوسائٹی کے پی سروجن نے کہا کہ ’’ہم کو اوسطاً ہر روز خون کی فراہمی کے لئے کم از کم 50 کالس وصول ہو رہے ہیں اور خون کی طلب میں بہت زیادہ اضافہ ہوگیا ہے اور ہم صرف نصف طلب کو پورا کرسکتے ہیں‘‘۔ انہوں نے کہا کہ ’’اس میں شک نہیں کہ خون کا عطیہ دینے والے سوسائٹی کو بچانے کے لئے آگے آرہے ہیں لیکن پلیٹ لیٹس سے مشکل ہے۔ پلیٹلیٹ ڈونرس حاصل کرنا بہت مشکل ہو رہا ہے کیونکہ انہیں اس عمل کو ختم ہونے تک تین گھنٹے انتظار کرنا ہوتا ہے۔ آئندہ مہینوں میں خون کی طلب کے بارے میں بات کرتے ہوئے شہر میں کئی بلڈ بینکس سے وابستہ اے نوین چاری نے کہا کہ ہم کو عام دنوں کے مقابل دوگنا خون کی ضرورت ہوگی اور اس سال ہم کو تقریباً 5 لاکھ یونٹس کی ضرورت ہوگی۔ اب ہم خون کا عطیہ کیمپس منعقد کرتے ہوئے صورتحال میں توازن کر پا رہے ہیں لیکن بلڈ سپلائی میں بتدریج کمی ہوسکتی ہے کیونکہ 18 سال اور اس سے زائد عمر والوں کے لئے ویکسینیشن کے لئے رجسٹریشن کا آغاز ہوگیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’خون کا عطیہ دینے والے 90 فیصد نوجوان اور کالج طلبہ ہوتے ہیں۔ جب ان تمام کو ویکسین لگایا جائے گا تو حیدرآباد میں ایک عجیب صورتحال ہوگی کیونکہ اس گروپ کی جانب سے آئندہ تین ماہ تک خون کا عطیہ نہیں دیا جائے گا۔ اس کے علاوہ شہر میں خون کا عطیہ دینے والوں کے فیصد میں بھی کمی ہورہی ہے۔ اوسطاً ایک این جی او ہر ماہ 1500 یونٹس حاصل کرتا ہے لیکن گزشتہ سال ہمارے یہاں 30 فیصد ڈونرس کی کمی ہوئی۔ آنے والے تین ماہ مشکل کے ہوں گے کیونکہ اس میں 1000 یونٹس خون بھی حاصل کرنا دشوار ہوگا۔ اس لئے ہم لوگوں سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ ٹیکہ لینے سے ایک ہفتہ قبل خون کا عطیہ دیں۔