حیدرآباد ۔ 14 اگست (سیاست نیوز) شہر میں دالوں کے زیادہ تر ہول سیل ڈیلرس اور ریٹیلرس مرکزی حکومت کے قانون سے ناواقف اور بے خبر ہیں، جس میں ان کیلئے اس بات کو لازمی بنایا گیا ہیکہ وہ روزانہ ان کے یہاں موجود اسٹاکس کو آن لائن اپ لوڈ کریں۔ ان دالوں میں تور دال، مسور دال، اڑو دال اور چنا شامل ہیں۔ محبوب گنج کے کمیشن ایجنٹس کے مطابق انہیں محکمہ سیول سپلائز یا حکومت سے اس سلسلہ میں کوئی سرکیولر موصول نہیں ہوا ہے کہ دالوں کے اسٹاکس کو اپ لوڈ کیا جائے۔ ایک کمیشن ایجنٹ، ترون نے کہا کہ ’’ہم کمیشن کی اساس پر کاروبار کرتے ہیں۔ ہم اس قانون سے واقف نہیں ہیں جس میں اسٹاکس کو اپ لوڈ کرنے کو ضروری بنایا ہے ‘‘ جبکہ مارکٹس بشمول محبوب گنج، عثمان گنج، بیگم بازار، میرعالم منڈی، بوئن پلی میں ڈیلرس نے کہا کہ کوئی اونر اسٹاکس کو آن لائن اپ لوڈ نہیں کررہے ہیں۔ یہاں ان میں زیادہ تر کمیشن ایجنٹس اور ہول سیل ڈیلرس ہیں جو فصل یا دالوں کو ٹریڈرس، ملز اور کسانوں سے خریدتے ہیں اور اسے کمیشن کے ساتھ ہول سیل قیمت پر فروخت کرتے ہیں۔ ایک ایجنٹ، جگنیش نے کہا کہ ٹریڈرس یا ملرس اسٹاکس کو اپ لوڈ کررہے ہوں گے لیکن ہم بطور ہول سیلرس یا ایجنٹس ایسا نہیں کررہے ہیں کیونکہ ہم اس قانون سے ناواقف ہیں۔ ہول سیلرس اور ایجنٹس کے پاس ان کے ریکارڈ کیلئے روزانہ کی فروخت کا اپ ڈیٹ ریکارڈ ہوگا لیکن وہ دالوں کے اسٹاکس کو آن لائن اپ لوڈ نہیں کررہے ہوں گے‘‘۔ محبوب گنج میں دالوں کے ایک بڑے ڈیلر، سری سائی ٹریڈرس کے ایک نمائندہ نے کہا کہ وہ کئی مہینوں سے روزانہ کی اساس پر اسٹاکس کو اپ لوڈ کررہے ہیں کیونکہ ایسا کرنا ٹریڈرس اور ملرس کیلئے ضروری ہے‘‘۔ یہاں اس بات کا تذکرہ ضروری ہوگا کہ دالوں کی ذخیرہ اندوزی نہیں کی جاسکتی اور اس کی تفصیل روزانہ آن لائن اپ لوڈ کرنا ہوگا۔ محکمہ جات سیول سپلائز اور ریونیو کے انفورسمنٹ عہدیداروں کو اس بات کو یقینی بنانا ہوتا ہیکہ ٹریڈرس دالوں کے اسٹاکس کو سنٹرل پورٹل پر اپ لوڈ کریں اور انہیں پابندی کے ساتھ معائنے کرنا ہوتا ہے۔ ریاستی حکومت نے مرکز کے احکام کے مطابق دالوں کے اسٹاکس کو اپ لوڈ کرنے میں معاون ایک آن لائن سسٹم بنایا ہے۔ اگر کوئی ذخیرہ اندوزی کرنے کا مرتکب پایا گیا تو اسے ای سی (اینشیل کاموڈیٹیز) ایکٹ، 1955 کی خلاف ورزی کیلئے بک کیا جائے گا۔