شہر میں دہشت گرد حملوں کی سازش چنچلگوڑہ جیل سے رچنے کی تردید

   

میڈیا سنسنی پھیلانے والی خبروں کی ترسیل سے گریز کرے ۔ ڈی آئی جی جیل سرینواس کا بیان
حیدرآباد 21 فبروری (سیاست نیوز) شہر حیدرآباد میں دہشت گرد حملوں کا کوئی منصوبہ تیار کیا گیا یا پھر کوئی دہشت گرد سازش تیار کی گئی وہ بھی کسی اور مقام سے نہیں بلکہ جیل میں قید دہشت گردی کے الزامات کا سامنا کررہے افراد کی جانب سے تیار کی گئی۔ اگر سوشل میڈیا کے علاوہ مین اسٹریم میڈیا کی کہانی سنے تو یہ سب درست ثابت ہوگا لیکن خود جیل حکام نے ان اطلاعات اور ایسی خبروں کی تردید کردی ہے اور ان خبروں کو بے بنیاد اور حقیقت سے بعید من گھڑت کہانی قرار دیا حالانکہ مین اسٹریم میڈیا نے جو عملاً گودی میڈیا کی نقل کرنے کے در پر ہے اپنی خبروں میں انٹلیجنس ایجنسیوں کے شبہات کا حوالہ دیا ہے۔ کل رات سے جاری اس شدید بے چینی اور شہریوں میں خوف کے ماحول کو دیکھتے ہوئے جیل ڈپارٹمنٹ نے اپنا موقف واضح کیا ہے۔ اس سلسلہ میں ڈی آئی جی جیل ڈپارٹمنٹ مسٹر سرینواس نے جیل میں دہشت گرد حملوں کی سازش کی اطلاعات کو جھوٹ قرار دیا اور جھوٹ کے سبب پھیلی بے چینی کو دور کرتے ہوئے بتایا کہ ان اطلاعات میں کوئی سچائی نہیں ہے۔ انہوں نے خبریں شائع کرنے والوں کو مشورہ دیا کہ وہ قومی سلامتی کے پیش نظر ایسی اطلاعات کی ایک مرتبہ متعلقہ حکام سے تصدیق کرلیں۔ بے بنیاد اطلاعات اور غیرمصدقہ خبروں سے سماج میں بے چینی پھیلانے کا سبب نہ بنیں۔ انہوں نے بتایا کہ چنچلگوڑہ جیل میں لشکرطیبہ سے تعلق رکھنے والا زاہد نامی دہشت گرد موجود ہے۔ اس سے انکی بیوی کے علاوہ کوئی اور ملاقات کیلئے نہیں آتا اور ان کی ملاقات بھی نگرانی میں ہوتی ہے۔ ہفتہ میں دو مرتبہ ملاقات دیگر قیدیوں کے اوقات سے ہٹ کر ہوتی ہے بلکہ کوئی اور زاہد سے ملاقات کیلئے نہیں آتا ۔ ذرائع کے مطابق حیدرآباد میں دہشت گرد حملوں کیلئے چنچلگوڑہ جیل سے سازش کی اطلاعات کو پھیلایا گیا اور مقدمات کے دوران جیل میں قید دہشت گرد نے حملوں کی ہدایت دی اور ایک منظم سازش تیار کی گئی۔ اس سلسلہ میں ملک پیٹ ، موسیٰ رام باغ اور سعیدآباد سے چند افراد کی گرفتاریاں عمل میں لانے کی خبر کو شائع کیا گیا جس کو خود جیل حکام نے بے بنیاد اور جھوٹ قرار دیا۔ع