اسنوکر پارلرس اور گیم زونس میں نوجوان نسل سٹہ بازی میں مشغول
حیدرآباد۔ 17 اکتوبر (سیاست نیوز) حیدرآباد اور سائبر آباد میں ان دنوں رات دیر گئے تک کاروباری سرگرمیاں عروج پر ہیں۔ سائبر آباد کے علاقوں میں صبح کی اولین ساعتوں تک کاروبار بغیر کسی رکاوٹ کے جاری ہیں۔ یہ کسی ہوٹل یا رسٹورنٹ کے نہیں بلکہ اسنوکرپارلر اور گیم زون کے نام پر چلائے جارہے ہیں۔ بالخصوص اسنوکر پارلرس کے کاروبار پر روک لگانے والا کوئی نہیں۔ رات دیر گئے جاری ان سرگرمیوں میں مصروفیت اور سٹے لگانے کے واقعات نوجوان نسل کی تباہی کا سبب ہیں۔ان سرگرمیوں کو دیکھتے ہوئے عوام نے پولیس کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ ایک طرف پولیس چبوترا مشن کو جاری رکھتے ہوئے نوجوان نسل کو بچانے کا دعویٰ کرتی ہے اور دوسری طرف یہ سرگرمیاں نوجوان نسل کی تباہی کا سبب بن رہی ہیں۔ رات دیر گئے جاری سرگرمیوں کا پولیس کے علم میں نہ ہونا ایسا ممکن ہی نہیں بلکہ اسنوکر پارلرس کے آرگنائزرس اور مالکین سے ساز باز کے پولیس پر الزامات ہیں۔ آخریہ کیسے ممکن ہوسکتا ہے کہ پولیس ان سرگرمیوں کو روکنا چاہتے ہوئے روک نہیں سکتی۔ رات دیر گئے تک نوجوان نسل اسنوکر پارلرس میں جوے اور سٹہ میں وقت لگاتے ہوئے تباہ ہو رہی ہے۔ چبوترا مشن تو یقینا خوش آئند اقدام ہے لیکن صرف ایک طرف کارروائی کیا پولیس کے مقاصد کو پورا کرسکتی ہے۔ یا پھر پولیس ہی نہیں چاہتی کہ ان سرگرمیوں پر تحدیدات عائد ہوں۔ جوا اور سٹہ کے سبب نوجوان نسل جرائم کی طرف راغب ہوسکتی ہے۔ کھیل میں رقم خرچ کرنے کیلئے غلط راستہ سے پیسہ کمانے کی سوچ ان میں جگہ کرسکتی ہے۔ ان اسنوکر پارلرس سے باضابطہ طور پر علاقہ کے پولیس ملازمین اور پولیس اسٹیشن کو ماہانہ معمول کے الزامات ہیں۔ آرام گھر عطاپور، راجندر نگر اور ٹولی چوکی کے علاقہ ہمایوں نگر حدود میں رات دیر گئے تک اسنوکر پارلرس کو باضابطہ طور پر چلایا جاتا ہے۔ ایسی اطلاعات بھی ہیں کہ علاقہ میں بڑے عہدیدار کی ڈیوٹی پر مقامی پولیس پہلے ہی اسنوکر پارلرس کے ذمہ داروں کو چوکنا کردیتی ہے۔ پردے باندھ کر رات کے اندھیرے میں بڑے اطمینان سے کاروبار جاری ہے اور پولیس رات ہوتے ہی ٹھیلہ بنڈی اور چھوٹے کاروباریوں پر اپنا رعب جماتیہے اور ان کے خلاف مقدمات درج کئے جاتے ہیں۔ پولیس کے اعلیٰ عہدیداروں کو چاہئے کہ وہ مقامی پولیس پر لگائے جانے والے الزامات کا سنجیدگی سے جائزہ لیں۔ موثر اقدامات کرتے ہوئے پولیس کی ساک کو متاثر ہونے سے بچاتے ہوئے نوجوان نسل میں بگاڑ کا سبب بننے والی ان سرگرمیوں پر روک لگائے اور شہریوں کو راحت فراہم کریں۔ ع