شہر میں زائد از 100 لگژری کاریں ٹرانسپورٹ حکام کے راڈار پر

   

Ferty9 Clinic

مقامی ٹیکس ادائیگی کے بغیر چلائے جانے کا انکشاف۔ جلد ہی کاروں کی ضبطی کے آغاز کا منصوبہ
حیدرآباد۔/22 اگسٹ، ( سیاست نیوز) گذشتہ ہفتے محکمہ ٹرانسپورٹ کی جانب سے 11 لگژری کاروں کو ضبط کیا گیا تھا جو مقامی ٹیکس ادا کئے بغیر سڑکوں پر دوڑ رہی تھیں۔ اب کہا جا رہا ہے کہ مزید 100 بیرونی لگژری کاریں ہیں جو ٹیکس ادا کئے بغیر سڑکوں پر دوڑ رہی ہیں اور ان کے خلاف محکمہ ٹرانسپورٹ کی جانب سے جلد ہی کارروائی کا آغاز کیا جانے والا ہے ۔ ان میں مرسڈیز ۔ بینز ‘ ماسیراٹی ‘ فیراری ‘ رولس رائس ‘ بی ایم ڈبلیو اور لمبورگھینی شامل ہیں۔ ان کاروں کے مالکین کیلئے اب ان میں گھومنا آسان نہیں رہے گا کیونکہ محکمہ ٹرانسپورٹ ان کے خلاف کارروائی کی تیاری کر رہا ہے ۔ کہا گیا ہے کہ شہر کے ہر گلی کوچے میں نصب سی سی ٹی وی کیمروں کی وجہ سے ان کاروں کا پتہ چلانے میں مدد ملی ہے ۔ محکمہ ٹرانسپورٹ نے اس کام میں پولیس کی بھی مدد لی ہے اور ان کاروں کو ضبط کرنے کی تیاریاں شروع کردی گئی ہیں۔ محکمہ کا کہنا ہے کہ تقریبا چھ ماہ کی جدوجہد کے بعد کاروں کی نشاندہی کی گئی ‘ ان کی نقل و حرکت کا پتہ چلایا گیا اور ان کے لوکیشن کی معلومات حاصل کی گئی ہیں۔ محکمہ کو یہ اطلاع دی گئی تھی کہ کئی لگژری کاریں شہر میں مقامی ٹیکس ادا کئے بغیر دوڑ رہی ہیں۔ ان کا پتہ چلانے کی محکمہ ٹرانسپورٹ نے کوششیں شروع کردی تھیں۔ پھر پولیس کی مدد لیتے ہوئے ان کی نشاندہی کی گئی ۔ حالانکہ یہ کام آسان نہیں تھا لیکن محکمہ ٹرانسپورٹ کے عملہ نے سی سی ٹی وی فوٹیج حاصل کیا اور اس کا تجزیہ بھی کیا ۔ 40 اسسٹنٹ موٹر وہیکل انسپکٹرس و موٹر وہیکل انسپکٹرس پر مشتمل ٹیموں کی ڈپٹی ٹرانسپورٹ کمشنر کی نگرانی میں تشکیل عمل میں لائی گئی تھی تاکہ ان کاروں کو جنہوں نے لائیف اور روڈ ٹیکس ادا نہیں کیا ہے ضبط کیا جاسکے ۔ جن کاروں کو گذشتہ ہفتے ضبط کیا گیا تھا وہ پڈوچیری اور مہاراشٹرا میں رجسٹرڈ کروائے گئے تھے کیونکہ وہاں دوسری ریاستوں کی بہ نسبت رجسٹریشن فیس کم ہے ۔ کہا گیا ہے کہ محکمہ ٹرانسپورٹ کو اب ان کاروں کے محاصل سے کم از کم 150 کروڑ روپئے کی آمدنی ہوگی ۔ محکمہ نے ان کاروں کے مالکین کو مشورہ دیا ہے کہ وہ ٹیکس ادا کریں بصورت دیگر انہیں بھاری جرمانے بھی ادا کرنے پڑسکتے ہیں۔ محکمہ ٹرانسپورٹ کے ذرائع نے بتایا کہ حکام کی جانب سے ان گاڑیوں اور ان کے مالکین کی اطلاعات و تفصیلات کو حیدرآباد پولیس اور ڈائرکٹوریٹ آف ریوینیو انٹلی جنس سے بھی رجوع کرنے پر غور کیا جا رہا ہے تاکہ اگر کچھ بے قاعدگیاں ہوئی ہیں تو ان کا بھی پتہ چلایا جاسکے ۔ کہا گیا ہے کہ ریاست میں جملہ 1,023 بیرونی لگژری کاریں ہیں جو ٹیکس ادا کرنے کے بعد چلائی جا رہی ہیں۔ ان میں 959 کاریں صرف حیدرآباد میں موجود ہیں ۔ واضح رہے کہ گذشتہ ہفتے حکام کی جانب سے کارروائی کرتے ہوئے بلا ٹیکس ادائیگی چلائی جانے والی 11 لگژری کاروں کو ضبط کیا گیا تھا ۔ اب مزید 100 ایسی کاروں کے تعلق سے کارروائی کا آغاز کیا جا رہا ہے ۔ کہا جا رہا ہے کہ ان کاروں کے بھی ٹیکس ادا نہیں کئے گئے ہیں ۔