شہر میں سگریٹ ، گٹکھا اور پان مسالہ کی قیمتوں میں بھاری اضافہ

,

   

لاک ڈاؤن پر عمل آوری کے باوجود کئی گنا زائد قیمت پر تمباکو اشیاء کی فروخت جاری

حیدرآباد۔28اپریل(سیاست نیوز) شہر حیدرآباد میں سگریٹ نوشی اور حقہ کا استعمال اب امراء کا شوق ہوتا جا رہا ہے کیونکہ سگریٹ اور حقہ میں استعمال ہونے والی اشیاء کی قیمت دوگنی ہوتی جا رہی ہے اور لاک ڈاؤن کے باوجود جاری ان اشیاء کی فروخت شہریوں کے شوق کو پورا کر رہی ہے لیکن دوگنی قیمتوں میں پورے کئے جانے والے اس شوق کے متعلق کہا جا رہاہے کہ یہ شوق اب عام نہیں رہا اور نہ ہی لاک ڈاؤن کے خاتمہ کے بعد اسے عام سگریٹ نوشی یا حقہ نوشی کے طور پر دیکھا جائے گا بلکہ کورونا وائرس سے شہریوں کو محفوظ رکھنے کیلئے حکومت کی جانب سے سگریٹ اور حقہ میں استعمال ہونے والی اشیاء کی فروخت کے لئے سخت شرائط لاگو کئے جائیں گے تاکہ راست پھیپڑوںپر اثر کرنے والی ان اشیاء کی فروخت پر قابو پانا صحت عامہ کی بہتری کیلئے لازمی ہے ۔

شہر حیدرآباد و سکندرآباد میں لاک ڈاؤن سے قبل ہوئے جنتا کرفیوکے بعدسے ہی تمباکو کی اشیاء کی قیمتو ںمیں اضافہ ریکارڈ کیا جانے لگا تھا کیونکہ تمباکو‘ زردہ ‘ سگریٹ اور پان مسالہ استعمال کرنے والوں کی طلب کو دیکھتے ہوئے جس انداز میں یہ اشیاء خریدی جاتی تھیں اسے دیکھتے ہوئے کئی لوگوں نے اس کا کاروبا ر اور ذخیرہ اندوزی شروع کردی جس کے نتیجہ میں اب کئی اشیاء کی قیمتوں میں 70 فیصد تک اضافہ ریکارڈ کیا جارہا ہے اور اس اضافی قیمت میں یہ اشیاء فروخت کی جا رہی ہیں۔ دونوں شہروں میں لاک ڈاؤن سے قبل ایک سگریٹ 15تا17 روپئے میں فروخت کی جاتی تھی اور کھلی سگریٹ کی فروخت پر امتناع عائد تھا لیکن اب جبکہ لاک ڈاؤن کی صورتحال ہے تو کھلی سگریٹ دستیاب نہیں ہے لیکن سگریٹ کی پیاکٹ کی قیمت 230تا250 روپئے تک ہوچکی ہے اور جو کہ 150تا165 روپئے فروحت کی جا رہی تھی۔ عالمی ادارہ صحت کی جانب سے جاری کردہ انتباہ میں اس بات کی صراحت کی گئی ہے کہ کورونا وائرس کے متاثرین میں سگریٹ نوشی کرنے والوں کو وینٹیلٹرس کی زیادہ ضرورت پڑ رہی ہے اور ان کے مقابلہ میں سگریٹ نوشی نہ کرنے والوں کووینٹیلیٹرس کی ضرورت نہ کے برابر محسوس کی جا رہی ہے۔واضح رہے کہ عالمی سطح پر تمباکو استعمال کرنے والے ممالک کی فہرست میں ہندستان دوسرے نمبر پر آتا ہے جہاں زردہ‘ گٹکھا‘ پان مسالہ اورسیگریٹ کے علاوہ دیگر ذرائع سے تمباکو کے استعمال کے ذریعہ اپنی طلب پوری کرتے ہیں۔ کورونا وائرس کے متاثرین جو تمباکو کا استعمال کرتے ہیں ان کو وینٹیلیٹرس کی زیادے ضرورت محسوس ہونے کے علاوہ پان مسالہ‘ گٹکھا اور زردہ کھانے والوں کی جانب سے جابجا تھکنے کی عادت ہوتی ہے لیکن آئی سی ایم آر نے یہ واضح کردیا ہے کہ عوامی مقامات پر تھوکنے سے بھی کوروناوائرس کے پھیلنے کا خدشہ ہے ۔ہندستان میں 15 سال سے زائد عمر کے نوجوانوں کی بڑی تعداد سگریٹ یا پان مسالہ کے ذریعہ تمباکو کا استعمال کرتی ہے جن کی تعداد اعداد وشمار کے مطابق267ملین ہے۔ 199 ملین ایسے افراد ہیں جو کہ دانت اور منہ میں دبانے والے تمباکو کا استعمال کرتے ہیں جبکہ اس میں 99 ملین افراد سگریٹ نوشی کے ذریعہ اپنی طلب پوری کرتے ہیں۔دونوں شہروں کے علاوہ ملک کی بیشتر ریاستوں میں تمباکو سے تیار کی جانے والی اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ کے علاوہ ان اشیاء کی فروخت پر سخت نظر رکھنے کے اقدامات کئے جانے لگے ہیں اور کہا جا رہاہے آئندہ دنوں میں متعلقہ محکمہ جات کی جانب سے مزید سخت قوانین اور احکامات کی اجرائی کے متعلق منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔