حیدرآباد :۔ غیر موثر سیوریج سسٹم ، دہوں قدیم نالوں اور اسٹارم واٹر ڈرین نیٹ ورک کے باعث اکٹوبر 2020 میں ہوئی بارش اور سیلاب کی وجہ شہر میں کافی نقصانات اور تباہی ہوئی ۔ یہ بات عثمانیہ یونیورسٹی کے سیول انجینئرنگ شعبہ کی جانب سے تیار کی گئی ایک سروے رپورٹ میں کہی گئی ۔ شہر میں سیلاب کے باعث ہوئی تباہی کے بعد عثمانیہ یونیورسٹی نے عوام کے تمام طبقات سے آن لائن انفارمیشن حاصل کرتے ہوئے ایک پائلٹ اسٹیڈی کی ۔ ایم گوپال نائک ، سابق صدر شعبہ سیول انجینئرنگ ، عثمانیہ یونیورسٹی نے جنہوں نے یہ اسٹیڈی کی کہا کہ ’ یہ سروے مختلف پلیٹ فارمس جیسے واٹس ایپ ، فیس بک کے ذریعہ آن لائن کیا گیا ۔ سیلاب پر کئے گئے اس سروے کا اصل مقصد تباہی کے وجوہات کو سمجھنا اور ایک مناسب فلڈ مینجمنٹ پلان بنانے میں مدد کرنا تھا ۔ اس میں جملہ 315 ریسپانسیس موصول ہوئے اور ان تفصیلات سے ہم نے سیلاب کے اثرات اور اس سے ہونے والے نقصانات کی اسٹیڈی کی ‘ ۔ مسٹر نائیک نے کہا کہ اسٹیڈی سے یہ معلوم ہوا کہ 46.07% متاثرہ علاقے پہلی مرتبہ زیر آب ہونے والے علاقے تھے ۔ 32.72% علاقے 2 تا 5 مرتبہ زیر آب تقریبا 7% علاقے 6 تا 10 مرتبہ اور 14% علاقے زائد از دس مرتبہ زیر آب ہونے والے علاقے تھے ۔ 40 فیصد سے کم علاقوں میں 2 فٹ تک پانی آگیا تھا جب کہ تقریبا 46% علاقوں میں 2 تا 5 فیٹ گہرائی تک پانی جمع ہوگیا تھا اور 12% علاقوں میں 5 فیٹ سے زیادہ گہرائی تک پانی آگیا تھا ۔ اس اسٹیڈی میں ، جو موجودہ سیوریج سسٹم اور نالا سسٹم پر بھی کی گئی پتہ چلا کہ شہر کے اہم علاقوں میں موجود سیوریج نیٹ ورک سسٹم بہت ناقص ہے اور سیوریج بہاؤ کے اضافی لوڈ کی وجہ موجودہ سسٹم اس کی ضرورت کو پورا نہیں کرپارہا ہے ۔ اسٹیڈی کے دوران یہ نوٹ کیا گیا کہ زیادہ تر نالوں اور سڑک کی جانب کے ڈرینس میں کچہرا بھر گیا ہے ۔ شہری آبادی میں تیزی سے اضافہ کے باعث زیادہ تر اسٹارم واٹر ڈرینس پر غیر قانونی قبضے ہوگئے ہیں ۔ جس کے نتیجہ میں اصل نالوں کی چوڑائی کم ہو کر یہ تنگ ہوگئے ہیں ۔ نائیک نے کہا کہ زیادہ تر سلم میں رہنے والے اور کمزور طبقات کے لوگوں نے بڑے نالوں کے کناروں پر قبضہ کر کے مقیم ہوگئے ہیں جس کی وجہ سے بارش کے پانی کے بہاؤ میں رکاوٹ ہورہی ہے ۔ اس میں جھیلوں ( تالابوں ) پر بھی اسٹیڈی کی گئی حیدرآباد میں 184 جھیلیں (تالاب) ہیں اور ان کی ایک فکسڈ فل ٹینک لیول (FTL) ہے ۔ ان تمام جھیلوں / تالابوں کی پانی کی کپاسٹی ان جھیلوں میں صنعتی کچہرا ڈالنے اور سیوریج ڈالنے کے باعث برسوں میں بتدریج کم ہوگئی ۔ اس کے علاوہ جھیلوں اور تالابوں پر غیر قانونی قبضے بھی کئے گئے ۔ اس میں کچھ سفارشات بھی کی گئی ہیں جس میں آبگیر علاقوں میں ایک پائیلٹ اسٹیڈی کرنا ، ایک مناسب ڈرینج سسٹم بنانا ، نالوں اور ندیوں کے کناروں پر غیر قانونی قبضوں کی نشاندہی کر کے انہیں برخاست کرنے کے اقدامات کرنا اور gsespatial ٹکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے شہر کے علاقوں کی رسک میاپنگ کی تیاری شامل ہے ۔ مسٹر نائیک نے کہا کہ ہم نے سروے رپورٹ وائس چیرمین تلنگانہ اسٹیٹ پلاننگ کمیشن بی ونود کمار کو پیش کردی ہے کہ اس پر عمل کیا جائے تاکہ شہر کو مستقبل میں سیلاب سے محفوظ رکھا جائے ۔۔