شہر میں سی این جی کی قلت سے مشکلات

   

پمپس پر طویل قطاریں، زیادہ رقم وصول کرنے کی شکایت

حیدرآباد۔21جنوری(سیاست نیوز) دونوںشہرو ںحیدرآباد وسکندرآباد میں سی این جی کی سربراہی میں ہونے والی قلت کے نتیجہ میں کئی سی این جی پمپس پر طویل قطاریں دیکھی جانے لگی ہیں اور سی این جی کی اس قلت کے نتیجہ میں پمپ پر خدمات انجام دینے والے اہلکاروں کی جانب سے اضافی رقومات وصول کئے جانے کی بھی شکایات موصول ہونے لگی ہیں۔ شہر حیدرآباد میں زائد از 30ہزار سی این جی آٹوز چلائے جا رہے ہیں جبکہ 2000 سے زائد موٹر کاریں ہیں جو کہ سی این جی کے استعمال کے ذریعہ چلائی جاتی ہیں۔ بتایاجاتاہے کہ سی این جی کی قلت کے نتیجہ میں پیدا شدہ صورتحال سے نمٹنے کے لئے سرکاری طور پر کسی بھی طرح کے اقدامات نہ کئے جانے کے سبب بھی سی این جی آٹو اور کیاب ڈرائیورس میں شدید ناراضگی پائی جانے لگی ہے کیونکہ شہر کے پمپس پر جہاں سی این جی موجود ہے ان پمپس پر اضافی قیمتیں وصول کرنے کی شکایات موصول ہورہی ہیں جبکہ قلت کے نتیجہ میں سی این جی کے ذریعہ چلنے والی گاڑیوں کی آمدنی بھی بری طرح سے متاثر ہوئی ہے۔ مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کے حدود میں مجموعی اعتبار سے 50 سے زائد سی این جی اسٹیشن موجود ہیں لیکن بیشتراسٹیشنوں پر اس بات کی شکایات موصول ہورہی ہیں کہ سی این جی کا اسٹاک نہ ہونے کے سبب پمپ بند ہیں ۔ شہر کے کئی سرکردہ پمپ جہاں سی این جی کی سہولت موجود ہے ان پمپوں پر سی این جی دستیاب نہ ہونے کے نتیجہ میں کیاب ڈرائیورس اور آٹو ڈرائیورس کو شدید معاشی نقصان کا سامنا کرنا پڑرہا ہے اور اپنی گاڑیوں میں سی این جی بھروانے کے لئے 6تا8 گھنٹوں تک قطار میں کھڑے ہونا پڑرہا ہے ۔ پمپس کے باہر طویل قطاروں کے نتیجہ میں دونوں شہروں کی مصروف ترین سڑکوں پر ٹریفک کے مسائل بھی پیدا ہونے لگے ہیں۔ سی این جی گاڑیوں کے مالکین نے بتایا کہ گذشتہ 10 یوم سے سی این جی کی قلت کا سامنا ہے لیکن کوئی بھی ان کے اس مسئلہ پرتوجہ نہیں دے رہا ہے جس کے نتیجہ میں انہیں مشکل صورتحال کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔3