حیدرآباد۔یکم نومبر، ( سیاست نیوز) شہر کے نواحی علاقہ میں طلاق ثلاثہ کا واقعہ پیش آیا۔ سمجھا جارہا ہے کہ قانون کے نفاذ کے بعد ریاست میں یہ اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ ہے۔ تاہم پولیس اس واقعہ پر قانونی مشاورت کو حاصل کررہی ہے اور ماہرین کی رائے بھی طلب کی جارہی ہے۔دوسری طرف پولیس نے شکایت گذار خاتون کی شکایت پر کارروائی کرتے ہوئے اس کے شوہر کو گرفتار کرلیا ہے۔ انسپکٹر کشائی گوڑہ مسٹر کے چندر شیکھر نے گرفتاری کی توثیق کردی۔ بتایا جاتا ہے کہ مصطفی اور رخسانہ کی شادی تین ماہ قبل ہوئی تھی اور شادی کے وقت دام جہیز بھی اچھی خاصی مقدار میں دیا گیا اور تمام ضروریات زندگی کی اشیاء کو فراہم کیا گیا تاہم لڑکی کے دانت اونچے ہونے کے سبب اس نئی نویلی دلہن کو ہراسانی کا سامنا تھا۔ مصطفی، راجندر نگر علاقہ کا ساکن جبکہ لڑکی کا تعلق مولا علی سے بتایا گیا ہے۔ لڑکی اپنی والدہ کے مکان پہنچنے کے بعد پولیس سے رجوع ہوئی۔ پولیس ذرائع کے مطابق رخسانہ کو زائد جہیز کیلئے مبینہ طور پر پریشان بھی کیا جارہا تھا جبکہ اصل اس لڑکی کے دانت اونچے ہونے پر اسے رسوا کیا جاتا تھا۔ کشائی گوڑہ پولیس مصروف تحقیقات ہے۔