عوام کے مسائل حل کرنے کا جھانسہ ، لوٹ کھسوٹ پر پولیس انجان
حیدرآباد۔10فروری(سیاست نیوز) شہر کے مختلف علاقوں میں فرضی باباؤں اور عامل کے علاوہ جادوگروں کی بہتات ہونے لگی ہے لیکن ان کے خلاف محکمہ پولیس کی جانب سے مکمل طور پر اختیار کی جانے والی خاموشی معصوم عوام کی تباہی کا سبب بن رہی ہے۔ دونوں شہروں حیدرآباد وسکندرآباد بالخصوص پرانے شہر کے گنجان آبادی والے علاقوں میں ملک کی مختلف ریاستوں سے تعلق رکھنے والے ایسے فرضی بابا اور عامل سرگرم ہوچکے ہیں جو معصوم عوام کو ان کے مسائل کے حل کے نام پر لوٹ رہے ہیں اور ان کی جانب سے کئے جانے والے دعوے اور عمل کے ذریعہ نہ صرف ان کی دولت بلکہ ان کے ایمان پر بھی ڈاکہ ڈال رہے ہیں۔ چندبرس قبل تک بھی شہرحیدرآباد کے بیشتر علاقوں بالخصوص ساؤتھ زون کے علاقوں میں محکمہ پولیس اور ٹاسک فورس کی جانب سے فرضی باباؤں اور عاملین کی گرفتاریوں کے لئے خصوصی مہم چلائی جاتی تھی اور اس طرح کی سرگرمیوں میں ملوث افراد کے چہروں پر پڑے نقاب ہٹاتے ہوئے عوام میں شعور اجاگر کیا جاتا تھالیکن گذشتہ کئی برسوں سے پرانے شہر میں اس طرح کی کاروائی نہ کئے جانے کے سبب شہر کی گنجان آبادیوں کی گلیوں میں جادو ٹونا کا کاروبار ایک مرتبہ پھر سے عروج پکڑنے لگا ہے ۔ دونوں شہروں میں ملک کی مختلف ریاستوں اتر پردیش‘ ہریانہ ‘ مغربی بنگال‘ مہاراشٹرا کے علاوہ دیگر مقامات سے تعلق رکھنے والے ایسے فرضی باباؤں کی سرگرمیوں اضافہ ہونے لگا ہے جو نہ صرف ناخواندہ افراد کو اپنا شکار بنا رہے ہیں بلکہ ان لوگوں کو بھی اپنا شکار بنا رہے ہیں جو حالات سے پریشان ہیں۔ دنیا بھر کو گذشتہ دو برسوں سے جن حالات کا سامنا ہے ان حالات سے سب واقف ہیں لیکن اس کے باوجود یہ فرضی بابا اور جادوگر کے علاوہ عاملین معصوم عوام کو ان کی پریشانیوں کو دور کرنے کے نام پر انہیں ٹھگ رہے ہیں اور معصوم شہریوں کو یہ تاثر دیا جا رہاہے کہ صرف وہ ان حالات کا شکار ہیں جبکہ اگر معاشی پریشانیوں کا جائزہ لیا جائے تو نہ صرف ہندستان بلکہ دنیا کے کئی ممالک کے عوام معاشی مشکلات کا شکار بنے ہوئے ہیں۔ اسی طرح مختلف امراض کے ساتھ ساتھ کئی لوگ مسلسل گھر میں بند رہنے کے سبب ذہنی امراض کا شکار بھی ہوئے ہیں اور انہیں ماہرین ذہنی امراض سے رجوع کرنے کی ضرورت ہے لیکن ان ذہنی مریضوں کو بھی عوام کے ذہنوں سے کھلواڑ کرنے والے ان باباؤں نے اپنا شکار بنانا شروع کردیا ہے اسی لئے محکمہ پولیس کے اعلیٰ عہدیداروں کو اس سلسلہ میں توجہ دیتے ہوئے فوری طور پر ان فرضی دھوکہ بازوں کے خلاف کاروائی کے اقدامات کرنے چاہئے۔م