حیدرآباد میں ایم ایم ٹی ایس سرویسیس کو پھر شروع کرنے ہنوز منظوری کا انتظار
حیدرآباد : ان لاک پروسیس سے عوام کو بڑی راحت ہوئی ہے کیونکہ پبلک ٹرانسپورٹ بشمول آر ٹی سی بس اور میٹرو ریل سرویسیس کا آغاز ہوگیا ہے۔ تاہم ملٹی ماڈل ٹرانسپورٹ سسٹم (ایم ایم ٹی ایس) کے مسافرین یہ سرویس پھر سے شروع ہونے کا بے چینی سے انتظار کررہے ہیں اور انہیں امید ہیکہ یہ لوکل ٹرینس کی خدمات پھر جلد شروع ہوجائیں گی۔ کوویڈ لاک ڈاؤن کی وجہ نو مہینوں میں ایم ایم ٹی ایس کو 25 کروڑ روپئے تک کے نقصانات ہوئے۔ ایک اوسط حساب سے ان سب اربن ٹرینس سے ایک دن میں 8 تا 9 لاکھ روپئے کی آمدنی ہوتی ہے یعنی ماہانہ تقریباً 2.5 کروڑ روپئے۔ ساوتھ سنٹرل ریلوے کے ایک سینئر عہدیدار نے شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط کے ساتھ کہا کہ کوویڈ لاک ڈاؤن کے باعث 22 مارچ سے عوام کیلئے ٹرین سرویسیس کو معطل کرنے سے ایم ایم ٹی ایس سرویسیس کو 25 کروڑ روپئے سے زیادہ کا نقصان ہوا‘‘۔ ایم ایم ٹی ایس کو پہلی مرتبہ 2003ء میں شروع کیا گیا جس میں شہر میں اپنی نوعیت کی پہلی لوکل ٹرین کو سکندرآباد سے فلک نما تک چلایا گیا جسے مقامی کمیوٹرس (مسافرین) کی لائف لائن کہا جاتا ہے لیکن یہ گذشتہ 9 ماہ سے معطل ہے حالانکہ ریلویز نے دیگر ریل سرویسیس کو شروع کیا ہے۔ ممبئی جیسے مقامات پر بھی تین ماہ قبل لوکل ٹرینس کو چلانا شروع کیا گیا ہے۔ کوویڈ کی وجہ 121 ایم ایم ٹی ایس ٹرین سرویسیس رک گئی تھیں۔ لاک ڈاؤن ختم ہونے کے بعد ٹرین سرویسیس کو مرحلوں میں شروع کیا گیا اور معطل کی گئی۔ 200 ٹرین سرویسیس کی جگہ صرف 72 سرویسیس کو شروع کیا گیا۔ ممبئی اور کولکتہ جیسے شہروں میں جملہ لوکل ٹرینس کے 50 فیصد سرویسیس کو پھر شروع کردیا گیا ہے لیکن لنگم پلی۔ سکندرآباد، فلک نما۔ لنگم پلی، نامپلی۔ لنگم پلی، سکندرآباد۔ فلک نما پر چلنے والی 121 لوکل ٹرینس کی ایک سنگل سرویس کو بھی ابھی تک شروع نہیں کیا گیا۔ اس کے علاوہ شہر کے لوگ 15 روپئے کے ٹکٹ پر 40 کیلو میٹر کا سفر کرنے کے موقع سے محروم ہوگئے ہیں۔ ایم ایم ٹی ایس سرویسیس کے رک جانے کی وجہ سے سرکاری اور خانگی دونوں ملازمین اور چھوٹے کاروبار کرنے والے وینڈرس بہت زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔ ماہانہ پاسیس پر ایم ایم ٹی ایس سرویسیس میں سفر کرنے والے 30,000 اشخاص متاثر ہوئے ہیں۔
