فرانسیسی کمپنی کیساتھ مذاکرات اور منظوری اکارت ثابت
حیدرآباد۔یکم۔جولائی (سیاست نیوز) ریاستی حکومت نے فرانسیسی کمپنی کے ساتھ معظم جاہی مارکٹ تا چارمینار اور گنبدان قطب شاہی تا گولکنڈہ قلعہ مونو ریل (ٹرام وے) کے آغاز کا منصوبہ تیار کیا تھا اور فرانسیسی کمپنی نے اس منصوبہ کو عملی جامہ پہنانے کے لئے مطالعاتی دورہ بھی کیا تھا اور شہر کی سرکردہ شخصیات و ماہرین کے ساتھ مذاکرات بھی منعقد کئے گئے تھے ۔ سال 2017 میں حکومت کی جانب سے کئے گئے اعلان کے مطابق مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کے ذریعہ اس منصوبہ کو 2018 کے اختتام تک مکمل کرلئے جانے کا منصوبہ تھا لیکن سال 2017 اور 2018کے دوراناس منصوبہ پر محض مذاکرات ہی ہوتے رہے اور اس وقف کے مئیر جی ایچ ایم سی سے دریافت کرنے پر انہوں نے بتایا تھا کہ ریاستی حکومت نے گنبدان قطب شاہی سے گولکنڈہ قلعہ اور معظم جاہی مارکٹ تا چارمینار ٹرام وے کے لئے 250 کروڑ کی لاگت سے پراجکٹ کو مکمل کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور اس میں مزید ضرورت پڑنے پر جی ایچ ایم سی کی جانب سے مالیہ فراہم کرنے کا تیقن دیا گیا تھا۔ بتایا جاتا ہے کہ ریاستی حکومت کی جانب سے مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآبادکو دی گئی ہدایات کے مطابق جو منصوبہ تیار کیا گیا تھا اس میں 2.9 کیلو میٹر طویل اس ٹرام وے کو منظوری دے دی گئی تھی لیکن ناگزیر وجوہات کی بناء پر اب تک اس منصوبہ کو قابل عمل نہیں بنایاجاسکا۔ ذرائع کے مطابق جی ایچ ایم سی عہدیداروں نے اس منصوبہ کے سلسلہ تفصیلی رپورٹ پیش کردی ہے اور کہا جا رہاہے کہ اس منصوبہ کے مطابق ٹرام وے کا کرایہ 10روپئے تا30 روپئے کے درمیان رکھے جانے کو منظوری دی گئی تھی ۔ سال 2022 کے دوران جی ایچ ایم سی کے عہدیداروں نے گولکنڈہ تا گنبدان قطب شاہی اور معظم جاہی مارکٹ تا چارمینار کے دوران ٹرام وے کے لئے ٹنڈر طلب کرنے کی تیاریاں مکمل کرلی تھیں لیکن اس پر بھی عمل آوری نہیں ہوپائی ۔ ذرائع کے مطابق سابق مئیر جی ایچ ایم سی بی رام موہن نے اس منصوبہ کو منظوری دی تھی۔ لیکن موجودہ مئیر جی ایچ ایم سی مسز وجیہ لکشمی اس منصوبہ کو عملی جامہ پہنانے کے حق میں نہیں ہیں۔ بتایاجاتا ہے کہ 250کروڑ کی لاگت سے تیار کئے جانے والے اس منصوبہ کے آغاز کے سلسلہ میں بلدی عہدیداروں کی جانب سے متعدد مرتبہ حکومت کو متوجہ کروایا جاچکا ہے۔ م
لیکن حکومت اور محکمہ بلدی نظم ونسق کی جانب سے پراجکٹ کے سلسلہ میں کوئی مثبت ردعمل ظاہر نہیں کیا جا رہاہے جو کہ خود بلدی عہدیداروں کے لئے باعث حیرت بنا ہوا ہے۔م