حیدرآباد ۔ 10 ۔ فروری : ( سیاست نیوز ) : شہر حیدرآباد میں مچھروں کی کثرت کی وجہ سے عوام پریشان ہیں ۔ شہر میں چند دنوں سے مچھروں کی کثرت عوام میں موضوع بحث بنی ہوئی ہے ۔ شہر کی ہر کالونی میں شام 6 بجے کے بعد سے عوام کیلئے مچھر درد سر بنے ہوئے ہیں ۔ گھروں کی کھڑکیاں اور دروازے شام کے ساتھ ہی بند کردینا پڑرہا ہے ۔ شام کے ساتھ ہی مچھروں کا غول حملہ کررہا ہے ۔ تالابوں اور گڈھوں کو مچھروں کی افزائش کی ایک وجہ بتائی جارہی ہے ۔ جی ایچ ایم سی 15 سے 20 کروڑ روپیوں سالانہ خرچ کرتے ہوئے مچھروں کو ختم کرنے کی کوشش کررہی ہیلیکن مچھروں کی افزائش میں کوئی کمی نہیں آئی ہے ۔ اکثر گرمیوں اور مانسون کے دوران مچھروں کی افزائش دیکھی جاتی تھی لیکن اس سال فروری کے آغاز کے ساتھ ہی مچھروں کی کثرت دیکھی جارہی ہے ۔ جی ایچ ایم سی کی جانب سے مچھروں کی روک تھام کے لیے بڑے پیمانے پر اقدامات کئے جارہے ہیں ۔ کچرے کے انبار اور سڑکوں کے اطراف جمع کچرا اور گڈھوں میں جمع پانی کی وجہ سے مچھروں کی کثرت میں اضافہ ہورہا ہے ۔ مچھروں کی وجہ سے وبائی امراض پھیلنے کا خدشہ بھی پیدا ہوگیا ہے ۔ جی ایچ ایم سی کی جانب سے تمام کوششیں کی جارہی ہیں کہ مچھروں پر قابو پایا جائے لیکن مچھروں کی شدت میں کوئی کمی نہیں آرہی ہے ۔ جی ایچ ایم سی کے پاس مچھروں پر قابو پانے کے لیے ایک خاص نظام ہے ۔ تمام کوششوں کے باوجود اس پر قابو پانے میں ناکام ہورہے ہیں ۔ ہر ہفتے گھروں کے اطراف اے ایل ڈی کیا جانا چاہئے لیکن کچھ سالوں سے دو تین ماہ تک کیمیکل اسپرے کا کوئی ریکارڈ نہیں ہے ۔ عملے کا کہنا ہے کہ انہیں دوسرے کاموں کے لیے استعمال کیا جاتا ہے جو مچھروں پر قابو پانے کے اقدامات کو متاتثر کررہا ہے جس کی وجہ سے فوگنگ نہیں کی جارہی ہے ۔ مچھروں کی کثرت میں اضافے کو لے کر سوشیل میڈیا پر بھی بحث شروع ہوگئی ہے کہ مچھروں پر قابو پانے کیلئے جی ایچ ایم سی کیا اقدامات کررہی ہیں ۔۔ ش