واٹر بورڈ سے مستقبل کی ضرورت کو پورا کرنے انفراسٹرکچر کا فروغ
حیدرآباد ۔ 23 اکٹوبر (سیاست نیوز) شہر میں اب وہ دن نہیں رہے جب خواتین کو پینے کے پانی کیلئے گھڑوں کے ساتھ طویل قطاروں میں ٹھہرے اپنی باری آنے کا کافی انتظار کرنا پڑتا تھا۔ حیدرآباد میں اس وقت پانی کی قلت ہوا کرتی تھی لیکن واٹر بورڈ کے اقدامات سے یہ مسئلہ حل ہوگیا ہے اور اب شہر میں پانی کے کوئی مسائل نہیں ہیں۔ گذشتہ سات سال میں حیدرآباد میٹرو پولٹین واٹر سپلائی اینڈ سیوریج بورڈ نے ریاستی حکومت کی جانب سے فراہم کردہ فنڈ 13,129 کروڑ روپئے سے کئی ایک اقدامات کئے ہیں جس سے شہر میں پینے کے پانی کے حصول میں ہونے والی دشواریاں دور ہوگئی ہیں اور پانی کی قلت نہیں رہی ۔ حکومت نے حال میں سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹ کی تنصیب کیلئے بھی واٹر بورڈ کو مزید 3,866.21 کروڑ روپئے منظور کئے۔ پینے کے پانی کی سربراہی کے پراجکٹس کیلئے رقمی منظوری کے ساتھ ذخائر آب کئے گئے، نئی پائپ لائنس ڈالی گئی ۔
اور موجودہ پائپ لائنس کو بہتر بنانے کے علاوہ واٹر بورڈ نے مزید کئی کام شروع کئے۔ ان اقدامات کے بعد گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن حدود میں کئی محلہ جات بشمول سلمس اور جی ایچ ایم سی حدود کے باہر اور آوٹر رنگ روڈ کے اندر کئی علاقوں میں پانی کا مسئلہ حل ہوا ہے۔
یہ تبدیلیاں راتوں رات ممکن نہیں تھیں، واٹر بورڈ کی مسلسل کاوشوں سے حیدرآباد اربن ایگلومیرلیشن حدود میں 2014ء تا 2020ء بتدریج پانی کی سربراہی میں بہتری آئی ہے۔