کچرے کی عدم نکاسی وبا کی اصل وجہ ۔ خانگی دواخانوں میں تک نئے مریضوں کی بھرتی کی گنجائش نہیں۔ وزیر صحت کا فیور ہاسپٹل کا دورہ
حیدرآباد۔3ستمبر(سیاست نیوز)شہر میں کچرے کے انبار اور خانگی و کارپوریٹ دواخانوں میں بھی ڈینگو سے متاثرہ بچوں کیلئے بستر موجود نہیں ہیں لیکن حکومت یا ضلع انتظامیہ کی جانب سے مسئلہ کی حساسیت کو محسوس کئے بغیر یہ تاثر دیا جا رہاہے کہ وبائی امراضـ پر کنٹرول کیا جانے لگا ہے اور حکومت سے اقدامات کئے جا رہے ہیں۔ ریاستی وزیر صحت و فینانس مسٹر ای راجندر نے آج فیور ہاسپٹل کا دورہ کرکے مریضوں سے ملاقات کی اور کہا کہ عوام کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے اطراف ماحول کو صاف ستھرا رکھتے ہوئے وبائی امراض کو روکنے میں تعاون کریں لیکن حکومت ‘ ضلع انتظامیہ یا مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کی جانب سے شہر میں صفائی کے انتظاما ت کو بہتر بنانے اقدامات یا ہدایات کے سلسلہ میں کوئی لب کشائی نہیں کی جا رہی ہے اور نہ ہی جی ایچ ایم سی کے عملہ کی جانب سے شہر میں کچرے کے انبار کو ہٹانے اقدامات کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ڈینگو کے متاثرین کی تعداد سال گذشتہ کے مطابق کم ہے لیکن حقائق کا جائزہ لیا جائے تو ڈینگو متاثرین کی تعداد سے حکومت اور ضلع انتظامیہ واقف نہیں ہے ایسامحسوس ہونے لگا ہے کیونکہ شہر کے کئی کارپوریٹ اور خانگی دواخانوں میں ڈینگو سے متاثرہ بچوں کو شریک کرنے سے انکار کیا جا رہاہے کہ کیونکہ ان کے پاس موجود بستروں پر مریض موجود ہیںاور ان کے دواخانوں میں مزید مریضوں کی کوئی گنجائش باقی نہیں ہے۔ ایک سرکردہ دواخانہ کے ذمہ دار نے بتایا کہ ان کے دواخانہ میں گذشتہ15 یوم سے بستر خالی نہیں ہیں اور مسلسل ڈینگو مریضوں کاعلاج جاری ہے ۔
عنبر پیٹ کے ایک سرکاری ملازم کو آج اپنی دختر کو خانگی دواخانہ میں شریک کروانے جدوجہد کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ شہر کے بیشتر سرکردہ دواخانوں میں بستر دستیاب نہیں ہیں اور ڈاکٹرس کا کہناہے کہ وہ پہلی مرتبہ اس طرح کی صورتحال کا سامنا کررہے ہیں اور خانگی اور کارپوریٹ ہاسپٹلس میں بھی مریضوں کی اتنی زیادہ تعداد کبھی نہیں دیکھی گئی ۔دونوں شہروں میں سرکاری دواخانو ںمیں میڈیا کو داخل ہونے نہیں دیا جا رہاہے کیونکہ بیشتر دواخانوں میں ایک بستر پر تین سے زائد مریضوں کا علاج جاری ہے اس کے باوجود حکومت یہ کہہ رہی ہیکہ حالات قابو میں ہیں اور عوام کے تعاون سے حکومت وبائی امراض پر قابو پانے میں کامیاب ہوجائیگی ۔ مسٹر ای راجندر نے کہا کہ ریاست میں موسمی تبدیلی اور مسلسل ہلکی اور تیز بارش کے سبب وبائی امراض میں اضافہ ریکارڈ کیا جا رہاہے اور حکومت کی جانب سے مچھر کش ادویات کا چھڑکاؤ اور سرکاری دواخانو ںمیں مچھردانوں کی تقسیم کے ذریعہ وبائی امراض کی روک تھام کے اقدامات کئے جا رہے ہیں علاوہ ازیں ریاست میں سرکاری دواخانوں کے کنٹراکٹ ملازمین کے بقایاجات ادا کرنے احکام دیئے جاچکے ہیں۔ حکومت کے اقدامات کے سلسلہ میں ریاستی وزیر کے اعلانات اور سرکاری ‘ خانگی اور کارپوریٹ ہاسپٹلس میں مریضوں کو مشکلات کو دیکھتے ہوئے کہا جاسکتا ہے کہ حکومت ڈینگو کی وبا کو نظر انداز کرنے کی پالیسی اختیار کئے ہوئے ہے کیونکہ اگر ڈینگو کے مریضوں کی صحیح تعداد منظر عام پر آتی ہے تو حکومت کو ہیلت ایمرجنسی نافذ کرنی پڑسکتی ہے ۔ بلدیہ حیدرآباد کی جانب سے شہر کے رہائشی اور تجارتی علاقوں سے کچرے کی عدم نکاسی کی شکایت ان وبائی امراض کے فروغ کی اصل وجہ ہے لیکن جی ایچ ایم سی عہدیداروں کی جانب سے ڈینگو کے مریضوں کی حقیقی تعداد کا انکشاف نہیں کیا جا رہاہے ۔شہر کے سرکردہ خانگی اور کارپوریٹ ہاسپٹلس میں سینکڑوں ڈینگو متاثرین زیر علاج ہیں اور سرکاری دواخانوں کی حالت بھی انتہائی ابتر ہے کیونکہ مریضوں کی تعداد میں بتدریج اضافہ ریکارڈ کیا جارہا ہے۔ دونوں شہر وں میں کچرے کی نکاسی کیلئے متعدد مرتبہ توجہ دہانی کے باوجود حکومت یا جی ایچ ایم سی کی عدم توجہ کے سبب ڈینگو کی وباء تیزی سے پھیل رہی ہے اور حکومت کی چشم پوشی سے عوام میں برہمی ہے۔ بتایاجاتا ہے کہ شہر میں بچوں کے دواخانہ میں نئے مریضوں کو شریک کرنے کی گنجائش باقی نہیں ہے اور ماہرین امراض اطفال کا کہناہے کہ شہر میں سربراہ کئے جانے والے پانی میں آلودگی اور شہر میں عدم صفائی کے علاوہ مچھروں کی کثرت کے سبب معصوم بچے ڈینگو جیسی مہلک بیماریوں میں مبتلاء ہورہے ہیں۔
