شہریوں کو سہولت کی بجائے زحمت ۔ کروڑ ہا روپئے کی ادائیگی بھی بے معنی
حیدرآباد۔17اگسٹ(سیاست نیوز) شہر میں سڑکوں کی توسیع کے کاموں کو نامکمل چھوڑ دیئے جانے کے سبب کروڑہا روپئے ادا کرتے ہوئے جائیدادوں کے حصول کے باوجود شہریوں کو کوئی سہولت حاصل نہیں ہورہی ہے بلکہ انہیں مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔پرانے شہر کے کئی علاقوں میں سڑکوں کی توسیع ہوئے کئی برس گذرچکے ہیں لیکن اس کے باوجود ان سڑکوں پر موجود برقی کھمبوں کو جوں کا توں رکھے جانے کے علاوہ توسیع کے بعد حاصل کی گئی جائیدادوں پر سڑک تعمیر نہ کئے جانے کے سبب ان جائیدادوں کی جگہ پر دوبارہ قبضہ کیاجانے لگا ہے اور سڑکوں کی توسیع سے راہگیروں کو کوئی فائدہ نہیں ہورہا ہے بلکہ جن سڑکوں کی توسیع کے اقدامات کئے گئے تھے ان سڑکوں پر دوبارہ ٹریفک جام کے مسائل جوں کے توں برقرار ہیں ۔ شہر حیدرآباد میں ٹریفک جام کے مسائل کو دور کرنے کے لئے مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کی جانب سے جائیدادوں کے حصول اور سڑکوں کی توسیع کے اقدامات کئے گئے ہیں جن میں شاہ علی بنڈہ تا چندو لعل بارہ دری براہ ہمت پورہ سڑک کے علاوہ مسجد حکیم میر وزیر علی سے حسینی علم براہ دودھ باؤلی سڑک اور درگاہ حضرت زہرہ بی صاحبہ سے رکھشا پورم براہ معین باغ ‘ عیدی بازار سڑک کی توسیع ہوئی کافی عرصہ گذر چکا ہے لیکن اس کے باوجود ان سڑکوں پر ٹریفک جام کے مسائل کو حل نہیں کیا جاسکا ہے جس کی بنیادی وجہ سڑکوں کے دونوں جانب موجود برقی کھمبو ں کو نہ ہٹایا جانا اور توسیع شدہ سڑک کی تعمیر میں کوتاہی ہے۔ دودھ باؤلی کی سڑک پر ٹریفک جام کے مسائل کا سامنا کر رہے راہگیروں کا کہناہے کہ سڑک کی توسیع کے بعد فوری برقی کھمبوں کو ہٹاتے ہوئے توسیع شدہ سڑک پر نئی سڑک کی تعمیر کی صورت میں یہ مسائل کا سلسلہ جاری نہیں رہتا لیکن اس مسئلہ کی یکسوئی کیلئے کوئی توجہ نہیں دی گئی جس کے نتیجہ میں جو جائیدادیں حاصل کی گئی تھیں اب ان پر بھی تاجرین اپنی دکانات لگانے لگے ہیں اور برقی کھمبوں کے سبب دکانات لگانے میں کسی قسم کی کوئی پریشانی کا بھی سامنا نہیں ہے۔ اسی طرح کی صورتحال معین باغ سے رکھشا پورم جانے والی سڑک پر بھی ہے اور برقی کھمبوں کے علاوہ توسیع شدہ سڑک پر تجارتی سرگرمیوں کی وجہ سے راہگیروں کو ٹریفک کے مسائل کا سامناکرنا پڑرہا ہے ۔ فتح دروازہ چوراہے پر جہاں بڑے پیمانے پر کاروائیوں کے ذریعہ سڑک کی توسیع کے کاموں کو مکمل کیا گیا ہے وہاں بھی برقی کھبوں کو ہٹانے کے اقدامات نہ کئے جانے کے سبب ٹریفک مسائل جوں کے توں ہیں۔M