صرف 40 فیصد کاروبار ۔ ورک فرہم ہوم کلچر اصل وجہ
حیدرآباد۔ شہر میں 19کیلو کے کمرشیل ایل پی جی سیلنڈرس کی فروخت میں اضافہ نہیں ہوا ہے اور کورونا لاک ڈاؤن کے خاتمہ کے باوجود کمرشیل سیلنڈرس کی فروخت میں کمی کا سلسلہ جاری ہے جس کی بنیادی وجہ کارپوریٹ کمپنیوں کے علاوہ آئی ٹی کمپنیوں اور دیگرکے ملازمین کا اب بھی گھر سے کام کا سلسلہ جاری رہنا ہے ۔تلنگانہ ایل پی جی ڈیلرس اسوسیشن نے بتایا کہ ریاست میں گھر سے کام کا سلسلہ جاری رہنے کے سبب کمپنیوں میں استعمال ہونے والے سیلنڈرس فروخت نہیں ہورہے ہیں اسی طرح ہاسٹلس اب بتدریج کھلنے لگے ہیں اس کے باوجود ان کے کاروبار 40تا50 فیصد تک پہنچ پائے ہیں ۔اسوسیشن کے ذمہ داروں نے بتایا کہ ریاست میں لاک ڈاؤن سے قبل 4 لاکھ سیلنڈرس ماہانہ فروخت کئے جاتے تھے لیکن اب 40 فیصد بھی کاروبار میں بہتری نہیں آئی ہے ۔ لاک ڈاؤن سے قبل تلنگانہ میں ماہانہ 4لاکھ کمرشیل سلینڈرس کمرشیل فروخت کئے جاتے تھے لیکن ختم ڈسمبر تک بھی لاک ڈاؤن کے خاتمہ کے باوجود 50 فیصد کاروبار بحال نہیں ہوپائے ہیں۔ ڈیلرس اسوسیشن کے جنرل سیکریٹری جگن موہن ریڈی نے بتایا کہ تلنگانہ میں کمرشیل سلینڈرس کی فروخت انفارمیشن ٹکنالوجی دفاتر کی بحالی تک ممکن نہیں ہے اور آئندہ چند یوم میں اس سلسلہ میں حکومت کی جانب سے پالیسی واضح کئے جانے کا امکان ہے۔انہوں نے بتایا کہ گذشتہ 70 برس سے وہ اس کاروبار میں ہیں لیکن کبھی کمرشیل ایل پی جی سیلنڈرس کی فروخت میں ایسی گراوٹ نہیں دیکھی تھی۔