لمحہ آخر میں جلسہ منسوخ ، پولیس کے رویہ پر شہریوں میں برہمی ، عدالت سے حصول اجازت کا عہد
حیدرآباد۔12 جنوری(سیاست نیوز) شہریت ترمیمی قانون ، این آر سی اور این پی آر سے پیدا شدہ تنازعہ کے خلاف جاری ملک گیر احتجاج کے درمیان حیدرآباد میں سی پی آئی لیڈر اور جے این یو اسٹوڈنٹ یونین کے سابق صدر کنہیا کمار کے جلسہ کی اجازت دینے سے سٹی پولیس نے لمحہ آخر میں انکار کردیا جس کے نتیجہ میں مقررہ جلسہ منسوخ کرنا پڑا۔ شہر حیدرآباد میں پولیس کے رول کو مشتبہ ہوتا دیکھ عوام میں بے چینی پیدا ہونے لگی ہے کیونکہ ریاست کے دیگر مقامات پر احتجاج کی اجازت دی جا رہی ہے اور حیدرآباد میں احتجاجی جلسوں کی اجازت دینے سے بھی انکار کیا جا رہاہے۔ کنہیا کمار کے جلسہ کو شہری پولیس انتظامیہ نے اجازت دینے سے انکار کردیا اور کرسٹل گارڈن فنکشن ہال کے ذمہ داروںکو ہراساں کرتے ہوئے انہیں انتظامات سے روک دیا گیا۔ سی پی آئی و جے این یو طلبہ قائد کنہیا کمار کے جلسہ کے سلسلہ میں گذشتہ تین یوم سے تشہیر جاری ہے لیکن محکمہ پولیس کی جانب سے لمحۂ آخر میں اجازت کی تنسیخ کے ذریعہ مرکزی حکومت کی جانب سے شہریت ترمیم قانون اور این آر سی کے علاوہ این پی آر کے نفاذ کی کوششوں کے خلاف احتجاج کو روکا جانے لگا ہے۔ حکومت تلنگانہ جو سیکولر حکومت ہونے کا دعوی کرتی ہے اس حکومت میں احتجاج کو روکتے ہوئے جمہوری اصولوںکو پامال کیا جانے لگا ہے جو کہ شہریوں کے حقوق کو کچلنے کے مترادف ہے۔ احتجاج کے نام پر ایک مخصوص ٹولہ کو ریاست کے مختلف مقامات پر جہاں بلدی انتخابات منعقد ہونے ہیں جلسوں کی اجازت فراہم کی جا رہی ہے
جس میں تلنگانہ راشٹر سمیتی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے بالواسطہ ان کی انتخابی مہم چلائی جا رہی ہے۔ شہر حیدرآباد میں پولیس کی جانب سے احتجاجی ریالی ‘ مظاہرہ اور جلسہ کی بھی اجازت نہ دیتے ہوئے پولیس کس کی خوشنودی حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہے اس کا اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے کیونکہ 28 ڈسمبر کو منعقد ہونے والے ملین مارچ کی اجازت کو بھی پولیس نے لمحۂ آخر منسوخ کردیا تھا بعد ازاں ملین مارچ کے منتظمین نے عدالت سے رجوع ہوتے ہوئے اجازت حاصل کی تھی اور 4 جنوری کو یہ مارچ منعقد کیا گیاتھا لیکن ملین مارچ کو دی گئی اجازت کے باوجود اس کے شرکاء پر مقدمات درج کئے گئے اسی طرح ترنگا ریالی کی اجازت فراہم کرنے کے بعد شرکاء پر پولیس کی جانب سے مقدمات کا اندراج کیا گیا۔شہریوں کا کہناہے کہ شہریان حیدرآباد جو کہ اب تک مرکزی حکومت کی پالیسیوں پر احتجاج کررہے تھے وہ اب ریاستی حکومت اور پولیس کی جانب سے اختیار کئے جانے والے رویہ کے خلاف احتجاج کرنے پر مجبور ہوتے جا رہے ہیں کیونکہ پولیس خوف کا ماحول پیدا کرتے ہوئے دستور میں فراہم کی گئی آزادی کو سلب کر رہی ہے ۔ پولیس کی جانب سے مخصوص گروہوں کو اجازت کی فراہمی کے ذریعہ یہ تاثر دیا جا رہاہے کہ پولیس تمام شہریو ںکو یکساں تصور نہیں کرتی بلکہ حکومت کے اشاروں پر کام کر رہی ہے۔ جناب سید عزیز پاشاہ سابق رکن راجیہ سبھا نے پولیس کی جانب سے کنہیا کمار کے جلسہ کی اجازت کو منسوخ کئے جانے پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ریاستی حکومت کے اشاروں پر عہدیدار ایسا کر رہے ہیںلیکن کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا کی جانب سے پولیس کے اس رویہ اور احتجاجی جلسہ کے انعقاد کی بھی اجازت نہ دیئے جانے کے خلاف عدالت سے رجوع ہوتے ہوئے اجازت حاصل کی جائے گی اور بڑے پیمانے پر جلسہ منعقد کیا جائے گا۔
