ماہانہ 200 روپئے کا مطالبہ، حکام کا مداخلت سے گریز
حیدرآباد: شہر میں کچرے کی نکاسی کے لئے گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن اور کنٹونمنٹ علاقہ میں بورڈ کی جانب سے خصوصی گاڑیوں کا انتظام کیا گیا ہے ۔ حالیہ عرصہ میں شہر اور کنٹونمنٹ علاقوں میں کچرا نکاسی کرنے والے افراد کی ہراسانی میں اضافہ کی شکایات ملی ہیں۔ یوں تو کچرے کے حصول کیلئے عوام کو رقم ادا کرنے کی ضرورت نہیں لیکن صفائی عملہ ماہانہ 100 تا 200 روپئے کا مطالبہ کر رہا ہے اور عدم ادائیگی کی صورت میں کچرا حاصل کرنے سے انکار کر رہے ہیں۔ سکندرآباد کنٹونمنٹ بورڈ کے شہری ان دنوں کچرا وصول کرنے والوں کے رویہ سے کافی پریشان ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ حالیہ عرصہ تک وہ ماہانہ 60 روپئے ادا کرتے تھے لیکن اب 200 روپئے کا مطالبہ کیا جارہا ہے ۔ بعض مکینوں نے آن لائین شکایات درج کی ہیں جس پر کنٹونمنٹ کے حکام کو کارروائی کرنی ہے۔ مقامی افراد نے بتایا کہ 50 تا 100 روپئے کا مطالبہ کوئی اہمیت نہیں رکھتا لیکن صفائی عملہ 200 روپئے کا مطالبہ کرتے ہوئے عوام کو لوٹ رہا ہے ۔ سکندرآباد کنٹونمنٹ کے سنیٹیشن عہدیدار سے بارہا نمائندگی کے باوجود کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوا۔ بورڈ کی جانب سے صفائی عملہ کو ادائیگی کے سلسلہ میں کوئی رہنمائی نہیں کی گئی ۔ مقامی افراد کا ماننا ہے کہ سکندرآباد کنٹونمنٹ بورڈ کو رہنمایانہ خطوط جاری کرتے ہوئے صفائی عملہ کو پابند کرنا چاہئے ۔ بتایا جاتا ہے کہ صفائی اور کچرے کی نکاسی کا کام خانگی اداروں کے حوالے کردیا گیا ہے ، لہذا سرکاری عہدیدار اس معاملہ میں مداخلت سے گریز کر رہے ہیں۔