حیدرآباد۔10۔مارچ(سیاست نیوز) دونوں شہر وں حیدرآباد وسکندرآبادمیں محض گیاس کی قلت کا مسئلہ ہی شہریوں کو تشویش میں مبتلاء کئے ہوئے ہے بلکہ دونوں شہروں میں زیر زمین ذخیرہ آب میں پیدا ہونے والی قلت نے بھی محکمہ آبرسانی کے ماہرین کو تشویش میں مبتلا ء کردیا ہے کیونکہ جاریہ موسم گرما کے دوران دونوں شہروں حیدرآبا د و سکندرآباد کے بیشتر علاقوں میں شدید پانی کی قلت کا خدشہ ظاہر کیا جا رہاہے ۔ محکمہ آبرسانی کے مطابق آؤٹر رنگ روڈ کے حدود میں موجود ان مقامات کی محکمہ کی جانب سے نشاندہی کرلی گئی تھی جن مقامات پر موسم گرما کے دوران پانی کی قلت کے نتیجہ میں ٹینکرس کے ذریعہ پانی کی سربراہی عمل میں لانی پڑتی تھی لیکن جاریہ سال موسم گرما کے آغاز سے قبل کی زیر زمین سطح آب میں ریکارڈ کی جانے والی گراوٹ نے ماہرین کو تشویش میں مبتلا ء کرنا شروع کردیا ہے کیونکہ ان کا کہناہے کہ اگر موسم گرما کے شدت اختیار کرنے سے قبل ہی زیر زمین سطح آب میں کمی ریکارڈ کی جانے لگتی ہے تو ایسی صورت میں موسم گرما کے دوران پانی کی قلت سے نمٹنے کے لئے متعدد اقدامات کرنے پڑتے ہیں۔محکمہ آبرسانی کے عہدیداروں کے مطابق گذشتہ ماہ فروری کے دوران ہی دونوں شہروں کے علاوہ آؤٹر رنگ روڈ کے حدود میں واٹر ٹینکرس نے 1لاکھ 42ہزار ٹرپس کئے ہیں۔پرانے شہر کے علاوہ نئے شہر کے کئی علاقوں میں جہاں پانی کی قلت ریکارڈ کی جانے لگی ہے مکینوںنے اس بات کی شکایت شروع کردی ہے کہ محکمہ آبرسانی جو نل کے ذریعہ پانی سربراہ کرتا ہے اس کے پریشر میں کمی ریکارڈ کی جانے لگی ہے اور محکمہ کی جانب سے سربراہ کئے جانے والے پانی کی سربراہی کے وقت کو بھی محدود کردیا گیا ہے جس کے نتیجہ میں درکار پانی جمع کرنے سے مکین قاصر ہونے لگے ہیں۔ماہرین کا کہناہے کہ جاریہ موسم گرما کے دوران دونوں شہروں کے کئی علاقوں میں بورویل ناکارہ ہونے کی شکایات موصول ہونے کا خدشہ ہے کیونکہ ماہ جنوری اور ماہ فروری کے دوران کئے زیر زمین آبی ذخائر کی پیمائش کے بعد جو رپورٹ حاصل ہوئی ہے وہ انتہائی تشویشناک ہے کیونکہ زیر زمین سطح آب میں اندرون ایک ماہ ایک میٹر تک کی گراوٹ ریکارڈ کی گئی ہے جو کہ شہری علاقوں میںموجود بورویل کو ناکارہ بنانے کا سبب بن سکتے ہیں۔ حیدرآباد میں عام طور پر ٹولی چوکی ‘ شیخ پیٹ‘ گچی باؤلی ‘ مادھا پور‘ کوکاپیٹ‘ کے علاوہ نوآبادیاتی علاقوں میں پانی کی قلت ریکارڈ کی جا رہی تھی اور ان علاقوں میں زیر زمین سطح آب میں گراوٹ ریکارڈ کئے جانے کے نتیجہ میں پانی کے ٹینکرس کا استعمال بڑھنے لگا تھا لیکن جاریہ موسم گرما کے دوران آصف نگر‘ چارمینار‘ بندلہ گوڑہ ‘ بہادر پورہ ‘ سعید آباد‘ امیر پیٹ ‘ خیریت آباد‘ ماریڈ پلی ‘ مشیر آباد ‘ سکندرآباد اور ترملگیری کے علاوہ دیگر علاقوں میں بھی زیر زمین سطح آب میں گراوٹ ریکارڈ کئے جانے کے نتیجہ میں تشویش کا اظہار کیا جانے لگا ہے۔3