شہر میں 4 لاکھ سیلاب متاثرین میں امداد کی تقسیم، باقی متاثرین میں تقسیم کا تیقن

,

   

حکومت مزید 100کروڑ جاری کرسکتی ہے، کانگریس اور بی جے پی پر تنقید، مرکز کا جانبدارانہ رویہ۔کے ٹی آر کی پریس کانفرنس

حیدرآباد۔ ٹی آر ایس کے ورکنگ پریسیڈنٹ اور وزیر انفارمیشن ٹکنالوجی کے ٹی راما راؤ نے آفات سماوی کی امدادی رقم کی اجرائی میں مرکزی حکومت پر غیر بی جے پی ریاستوں کے ساتھ جانبدارانہ رویہ کا الزام عائد کیا اور کہا کہ چیف منسٹر چندر شیکھر راؤ نے تلنگانہ میں سیلاب متاثرہ علاقوں میں راحت و امدادی کاموں کیلئے مرکز سے فوری امداد کی اپیل کی لیکن وزیر اعظم نریندر مودی نے اپیل کو نظرانداز کردیا ۔ میڈیا سے بات کرتے ہوئے کے ٹی آر نے کہاکہ وزیر اعظم نریندر مودی نے کرناٹک میں سیلاب کی تباہی کے اندرون چار یوم 669 کروڑ روپئے جاری کئے۔ 2017 میں وزیر اعظم نے گجرات کے سیلاب متاثرہ علاقوںکا دورہ کرکے 500 کروڑ روپئے جاری کئے تھے۔ تلنگانہ میں سیلاب سے بھاری تباہی ہوئی اور فصلوں کو نقصان پہنچا۔ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے وزیر اعظم کو مکتوب روانہ کرتے ہوئے 1350 کروڑ کی فوری امداد کی درخواست کی لیکن وزیر اعظم کی جانب سے کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ بی جے پی اور غیر بی جے پی ریاستوں کے درمیان مرکز کا امتیازی سلوک افسوسناک ہے۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ سیلاب کی تباہ کاریاں انسانی غلطیوں کا نتیجہ ہے جس کے لئے متحدہ آندھرا پردیش کی سابق حکومتیں ذمہ دار ہیں جنہوں نے تالابوں اور نالوں پر غیرمجاز قبضوں کو نظرانداز کرتے ہوئے تعمیرات پر خاموشی اختیار کرلی۔ کے ٹی آر نے کہا کہ ہم سابقہ حکومتوں پر الزام عائد کرتے ہوئے اپنی ذمہ داری سے سبکدوش ہونا نہیں چاہتے بلکہ ہم نے راحت و امدادی کاموں کے علاوہ مستقبل میں اس طرح کی تباہی کو روکنے کے اقدامات کئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سابقہ حکومتوں کی کئی دہوں تک ناکامیوں کو درست کرنے کیلئے چند سال لگ جائیں گے۔ انہوں نے اپوزیشن کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ جب ریاستی انتظامیہ اور ٹی آر ایس کے منتخب عوامی نمائندے متاثرہ علاقوں میں سیلاب کے امدادی کاموں میں مصروف تھے اس وقت اپوزیشن کا کوئی پتہ نہیں تھا۔ کانگریس اور بی جے پی نے پانی کی سطح کم ہونے کے بعد متاثرہ علاقوںکا دورہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت حیدرآباد میں سیلاب سے متاثرہ ہر خاندان کو امدادی رقم فراہم کرنے کی پابند ہے۔ انہوں نے تیقن دیا کہ اگر فنڈز کی کمی محسوس ہوگی تو وہ شخصی طور پر چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ سے نمائندگی کرتے ہوئے امدادی رقم کو یقینی بنائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت مزید 100 کروڑ روپئے جاری کرنے تیار ہے۔ کے ٹی آر نے بتایا کہ چیف منسٹر نے امدادی کاموں کی تکمیل اور رقمی امداد کیلئے فوری 550 کروڑ جاری کئے جو کسی بھی ریاست میں ایک شہر کیلئے جاری کی جانے والی رقم میں سب سے زیادہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ 1916 کے بعد حیدرآباد میں اس قدر بھاری تباہی ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تالابوں اور نالوں پر غیر مجاز قبضوں کی برخاستگی کا عمل شروع کیا گیا ہے۔ کے ٹی آر نے بتایا کہ حیدرآباد میں 4.30 لاکھ متاثرہ خاندانوں میں امدادی رقم تقسیم کی گئی ہے۔ چیف منسٹر نے دسہرہ سے قبل امداد کی تقسیم مکمل کرنے کی ہدایت دی تھی۔ اگر مزید خاندان امداد سے محروم ہیں تو حکومت انہیں بھی ادا کریگی۔ انہوں نے بتایا کہ عہدیداروں کی 920 ٹیمیں تشکیل دی گئیں تاکہ امدادی رقم مستحقین تک پہنچے۔ ایک دن میں ایک لاکھ خاندانوں کو امداد فراہم کی گئی۔ انہوں نے کانگریس و بی جے پی پر سیلاب کی صورتحال کو سیاسی رنگ دینے کا الزام عائد کیا۔ انہوں نے کہا کہ متاثرین میں امدادی کاموں کیلئے ضرورت پڑنے پر حکومت مزید 100 کروڑ روپئے منظور کرنے تیارہے۔ انہوں نے حیدرآباد ہمارا جیسے نعرہ پر بی جے پی کو تنقید کا نشانہ بنایا اور سوال کیا کہ حیدرآباد کیلئے بی جے پی نے آخر کیا کیا جو دعویٰ پیش کررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کرناٹک اور گجرات کیلئے جس طرح نریندر مودی محبت رکھتے ہیں اسی طرح کی ہمدردی تلنگانہ سے کیوں نہیں۔