فائر سیفٹی اقدامات پر کوئی توجہ نہیں، گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن کے اچانک دھاوے
حیدرآباد: ملک کے کسی بھی علاقہ میں سرکاری یا خانگی ہاسپٹل میں آتشزدگی کے واقعہ کے بعد گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن کے حکام شہر کے دواخانوں میں فائر سیفٹی سے متعلق احتیاطی تدابیر پر توجہ مرکوز کرتے ہیں ۔ مہاراشٹرا کے ہاسپٹل میں آتشزدگی کے واقعہ میں 10 کمسن بچوں کی موت کے بعد میونسپل کارپوریشن کے حکام نے شہر کے دواخانوں میں فائر سیفٹی اقدامات کا جائزہ لینا شروع کیا ہے ۔ بتایا جاتا ہے کہ شہر میں سرکاری ریکارڈ کے مطابق 1751 خانگی ہاسپٹلس ہیں جن کے پاس ہاسپٹل کا ٹریڈ لائسنس موجود ہیں، ان میں سے 80 فیصد ہاسپٹلس میں فائر سیفٹی کے شرائط کی تکمیل نہیں کی گئی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ فائر سیفٹی اقدامات نہ کرنے کے باوجود حکام کی جانب سے ہاسپٹل انتظامیہ کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جاتی۔ ہر دواخانہ کے لئے آتشزدگی کی صورت میں ہنگامی منصوبہ ضروری ہے تاکہ مریضوں اور اسٹاف کو آگ سے بچایا جاسکے ۔ فائر سیفٹی کے اقدامات میں مجلس بلدیہ اور فائر سرویس ڈپارٹمنٹ کا اہم رول ہوتا ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ شہر کے کئی نامور ہاسپٹلس میں فائر سیفٹی اقدامات کی کمی ہے۔ کئی ہاسپٹلس نے قواعدکی خلاف ورزی کرتے ہوئے سیلر میں مریضوں کے رومس قائم کردیئے ہیں جو غیر قانونی ہیں ۔ عمارت کی تعمیر کے سلسلہ میں احتیاطی تدابیر کو ملحوظ نہیں رکھا گیا تاکہ کسی ناگہانی کی صورت میں بچاؤ اقدامات کئے جاسکیں۔ اسٹیٹ ڈیزاسٹر ریسپانس اینڈ فائر سرویس ڈپارٹمنٹ کے عہدیداروں نے فائر سیفٹی کے بارے میں دواخانوں کی جانچ کا فیصلہ کیا ہے ۔ گزشتہ سال 220 ہاسپٹلس کا اچانک معائنہ کیا گیا اور ایک ہزار مقامات پر فائر سیفٹی اقدامات کا ریہرسل کیا گیا۔ جی ایچ ایم سی کے ریکارڈ کے مطابق 1200 ہاسپٹلس نے فائر سیفٹی کے بارے میں نوٹس کا جواب دیا ہے ۔ فائر سیفٹی اقدامات کے سلسلہ میں سرکاری ہاسپٹلس کی صورتحال بھی تشویش کا باعث ہے ۔ کسی بھی سرکاری دواخانہ میں آگ سے بچاؤ کے لئے عصری سہولتیں دستیاب نہیں ہیں۔ بعض دواخانوں میں 2 سال قبل فائر سیفٹی آلات نصب کئے گئے تھے لیکن آج تک ان کا تجربہ نہیں کیا گیا ۔ عثمانیہ ، گاندھی اور نیلوفر جیسے اہم دواخانے جہاں سینکڑوں کی تعداد میں مریض رجوع ہوتے ہیں، حکومت کو فائر سیفٹی کیلئے عصری طریقے اختیار کرنے چاہئے ۔