ناجائز قبضوں کے خلاف اسلام میں سخت وعید کے باوجود مسلمان بے خوف ‘ شعور بیداری ضروری
حیدرآباد۔25اپریل(سیاست نیوز) ریاست بالخصوص شہر علاوہ نواحی علاقو ں میں کھلی اراضیات و مکانات پر قبضہ کی شکایات معمول کی بات ہوچکی ہے اور شہر میں کئی مسلم افراد لینڈ گرابنگ اور ناجائز مکانات اور اراضیات پر قبضہ کے معاملات میں ملوث ہیں بلکہ کئی مقامات پر قبرستان کی زمینات کو بھی نہیں چھوڑا جارہا ہے اور ان پر بھی قبضہ کرتے ہوئے ان کو ذاتی استعمال میں لایا جانے لگا ہے۔ شہر حیدرآباد کے نوآبادیاتی علاقوں میں جہاں قیمتوں میں اچانک اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے ان میں پارک کی زمین ہویا کسی غریب کا کوئی پلاٹ ہو لینڈ گرابرس اس پر قبضہ کرنے میں بالکل بھی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرتے بلکہ سیاسی سرپرستی کی بناء پر وہ اپنی مرضی کی قیمت متعین کرکے جائیداد و اراضیات کے مالکین کو ادا کرکے وہاں سے بیدخل کرنے لگے ہیں۔ شہر کے علاوہ اطراف کے علاقوں میں ان سرگرمیوں کے سلسلہ میں علماء کو آواز اٹھانے اور ناجائز زمین ہڑپنے اور ظلم کرتے ہوئے جائیدادوں پر قبضہ کرنے والوں کے کو متنبہ کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ دین اسلام میں ناجائز کسی جائیداد یا اراضیات ہڑپنے اور ان پر قبضہ کرنے کی سخت وعید سنائی گئی ہے اس کے باوجود مسلم لینڈ گرابرس کی ان حرکتوں پر امت مسلمہ بالخصوص علماء اکرام کی خاموشی اور لینڈ گرابرس کی سرپرستی کرنے والوں کی تائید و حمایت کی وجہ سے شہر میں لینڈ گرابرس کی سرگرمیوں کو فروغ حاصل ہونے لگا ہے اور ظلم کرکے حاصل کی گئی اراضیات و جائیدادوں کو معیوب تصور نہیں کیا جا رہاہے بلکہ اپنی تجارتی دانشمندی اور چالاکی پر محمول قرار دینے کی کوشش کی جار ہی ہے۔ اللہ کے رسولﷺ نے کسی کی ایک انچ یا ایک بالشت زمین غضب کرنے والے کیلئے وعید سنائی ہے اور اس میں متعدد احادیث موجود ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وصلعم کا ارشاد ہے کہ جو شخص دوسرے کی زمین کا کچھ حصہ ناحق دبالے تو اسے قیامت کے دن سات زمینوں کی تہہ تک دھنسا دیا جائے گا(بخاری) اسی طرح ایک اور حدیث شریف میں اللہ کے رسولﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص کسی کی بالشت بھر زمین ظلم سے حاصل کریگا اسے قیامت کے دن سات زمینوں کا طوق پہنایا جائے گا۔ (مسلم)اراضیات و زمینات پر قبضہ کے متعلق کئی احدیث اور روایات موجود ہیں جن کے متعلق شعور اجاگر کرنا علماء اکرام کی ذمہ داری ہے اور ظلم کے ذریعہ اراضیات حاصل کرنے والوں کی نشاندہی کرتے ہوئے انہیں متنبہ کیا جانا چاہئے تاکہ شہریوں میں بھی احساس پیدا ہوکہ کسی کی بھی جائیداد یا اراضی پر ناجائز دعویٰ اور قبضہ کی کس قدر سخت سزاء ہے ۔م