شمالی ہند کی ریاستوں سے تعلق رکھنے والے گداگروں کی بڑی تعداد موجود
حیدرآباد۔ شہر حیدرآباد میں مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کی جانب سے دوبارہ شہر کو گداگروں سے پاک کرنے کی مہم شروع کرنے کی منصوبہ بندی کی جار ہی ہے کیونکہ دونوں شہروں کے مختلف مصروف چوراہوں پر دوبارہ گداگروں کی بین ریاستی ٹولیاں نظر آنے لگی ہیں جو کہ راہگیروں کو ہراساں کر رہی ہیں۔ مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآبا دکی جانب سے گذشتہ تین برسوں کے دوران متعدد مرتبہ شہر کی سڑکوں کو گداگروں سے پاک کرنے کے سلسلہ میں اقدامات کے ذریعہ انہیں شیلٹر ہومس منتقل کیا گیا تھا لیکن اس میں طویل مدتی کامیابی حاصل نہیں ہورہی ہے کیونکہ بلدی عملہ اور پولیس کی جانب سے کی جانے والی کاروائی کے دوران گداگروں کو شیلٹر ہوم منتقل کیا جا رہاہے اور وہ ان شیلٹر ہوم سے فرار اختیار کرتے ہوئے دوبارہ گداگری میں ملوث ہونے لگے ہیں اس کے علاوہ شہر حیدرآباد میں ملک کی شمالی ہند سے تعلق رکھنے والی ریاستوں کے گداگروں کی بڑی تعداد آباد ہے اور شہر کے مختلف چوراہوں پر مدھیہ پردیش‘ راجستھان اور اترپردیش سے تعلق رکھنے والے گداگر موجود ہیں۔مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآبا دکے عہدیداروں نے بتایا کہ شہر کو گداگروں سے پاک بنانے کی کوششیں لاک ڈاؤن سے قبل بڑی حد تک کامیاب ثابت ہوئی تھیں اور ملک کی کئی بلدیات میں جی ایچ ایم سی کی مثال دی جارہی تھی اور کہا جا رہا تھا کہ جی ایچ ایم سی کے طرز پر شہروں کو گداگروں سے پاک بنانے کے منصوبہ کو عملی جامہ پہنایا جائے۔عہدیداروں نے بتایا کہ لاک ڈاؤن کے دوران بھی شہر حیدرآباد میں گداگروں کی تعداد میں نمیاں کمی ریکارڈ کی گئی تھی لیکن اب دوبارہ شہر حیدرآباد میں گداگروں کی ٹولیاں نظر آنے لگی ہیں۔ عہدیداروں نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ شہر کے بیشتر چوراہوں پر پائے جانے والے گداگر ضرورتمند نہیں بلکہ پیشہ ور گداگر ہیں اور وہ مختلف ریاستوں سے تعلق رکھنے والے ہیں اسی لئے مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کے اعلی عہدیدارو ںکی جانب سے بڑے پیمانے پر مہم چلانے اور انہیں ان کی ریاست کو واپس روانہ کرنے کے علاوہ شیلٹر ہوم روانہ کرنے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے تاکہ شہر حیدرآباد کو گداگری سے پاک کرنے کے سلسلہ میں شروع کئے گئے اقدامات کو مزید بہتر انداز میں عملی جامہ پہنایا جاسکے اور شہر حیدرآباد میں شمالی ہند کی ریاستوں سے تعلق رکھنے والے گداگروں کے خاتمہ کے سلسلہ میں محکمہ پولیس کے اعلی عہدیداروں سے رابطہ قائم کیا جا رہاہے۔
