شہر کی ترقی میں حکومت سنجیدہ نہیں، حیدرآباد میٹرو اور موسی ریور فرنٹ پراجکٹ کیلئے فنڈس مختص نہیں

   

برقی اور آبرسانی کے مسائل روز کا معمول، شہر کے اہم پراجکٹس نظرانداز، اسمبلی میں بی آر ایس رکن ویویکانند کی تقریر
حیدرآباد 24 مارچ (سیاست نیوز) بی آر ایس رکن کے پی ویویکانند نے الزام عائد کیاکہ کانگریس حکومت حیدرآباد کی ترقی اور پراجکٹس کی تکمیل میں سنجیدہ نہیں ہے۔ اسمبلی میں بلدی نظم و نسق اور دیگر محکمہ جات کے مطالبات زر پر مباحث میں حصہ لیتے ہوئے بی آر ایس رکن نے الزام عائد کیاکہ حیدرآباد میٹرو توسیعی پراجکٹ اور موسی ریور فرنٹ ڈیولپمنٹ پراجکٹ کے بارے میں ریونت ریڈی حکومت غیر سنجیدہ ہے۔ گزشتہ 2 بجٹ میں حکومت نے دونوں پراجکٹس کے لئے کوئی خاص منظوری نہیں کی ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ شہر کی ترقی کے دعوے کرنے والی کانگریس حکومت نے بجٹ کی منظوری میں شہر کو نظرانداز کردیا ہے۔ اُنھوں نے گزشتہ سال بجٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہاکہ جی ایچ ایم سی کے لئے 2654 کروڑ مختص کئے گئے تھے لیکن 1200 کروڑ جاری کئے گئے۔ اُنھوں نے کہاکہ آؤٹر رنگ روڈ کے لئے 2000 کروڑ کی ضرورت ہے لیکن محض 500 کروڑ مختص کئے گئے۔ اُنھوں نے آؤٹر رنگ روڈ کے علاوہ ایچ ایم ڈی اے کے تحت ترقیاتی پراجکٹس کو نظرانداز کرنے کا الزام عائد کیا۔ ویویکانند نے کہاکہ حیدرآباد میٹرو واٹر ورکس کو 3385 کروڑ مختص کئے گئے لیکن 800 کروڑ کی اجرائی عمل میں آئی۔ رائے درگم سے میٹرو ریل کے منصوبہ کو کانگریس حکومت نے منسوخ کردیا۔ پرانے شہر کے میٹرو ریل توسیعی منصوبہ کے لئے 1100 کروڑ مختص کئے گئے لیکن محض 300 کروڑ جاری کئے گئے۔ موسی ریور فرنٹ ڈیولپمنٹ پراجکٹ کے لئے 1500 کروڑ میں سے محض 80 کروڑ کی اجرائی عمل میں آئی۔ اُنھوں نے کہاکہ گزشتہ سال حکومت نے مجموعی بجٹ کی محض 25 فیصد رقم جاری کی ہے۔ بی آر ایس رکن نے فورتھ سٹی اور فیوچر سٹی کے منصوبوں کو محض دکھاوا قرار دیا اور کہاکہ شہر میں بنیادی انفراسٹرکچر کی فراہمی سے حکومت کو کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ بی آر ایس کے 10 سالہ دور حکومت میں برقی اور پانی کا کوئی مسئلہ درپیش نہیں رہا لیکن کانگریس کے 15 ماہ کے اقتدار میں پانی کی قلت اور برقی سربراہی میں رکاوٹ کی شکایات عام ہوچکی ہیں۔ ذخائر آب کے تحفظ کے نام پر تشکیل دیئے گئے حیڈرا کی سرگرمیوں سے رئیل اسٹیٹ کاروبار ٹھپ ہوچکا ہے۔ بی آر ایس رکن نے الزام عائد کیاکہ حکومت نے سمر ایکشن پلان تیار نہیں کیا جس کے تحت برقی اور پانی کی سربراہی سے مؤثر انداز میں نمٹا جاسکے۔ اُنھوں نے کہاکہ گریٹر حیدرآباد سے کابینہ میں کوئی وزیر نہیں ہے۔ شہر میں 40 فیصد اسٹریٹ لائٹس ناکارہ ہوچکے ہیں جبکہ 10 ہزار سی سی ٹی وی کیمروں میں بیشتر کا مینٹیننس نہیں ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ حیدرآباد میٹرو ریل پراجکٹ کب مکمل ہوگا اِس کی کوئی ضمانت نہیں ہے۔ بجٹ میں پراجکٹ کے لئے درکار فنڈس مختص نہیں کئے گئے اور نہ ہی حکومت نے وضاحت کی ہے کہ فنڈس کا انتظام کیسے کیا جائے گا۔1
اُنھوں نے تلنگانہ میں سرمایہ کاری کے مسئلہ پر وائٹ پیپر جاری کرنے کا مطالبہ کیا۔1