کانگریس ترجمان نظام الدین کا الزام، شہر کی ترقی کو نظر انداز کرنے کی شکایت
حیدرآباد۔7 ۔ اگست (سیاست نیوز) پردیش کانگریس کمیٹی نے شہر کی ترقی سے متعلق 2016 ء میں کے ٹی آر کی جانب سے اعلان کردہ 100 دن کے ایکشن پلان کو اسکام قرار دیا اور کہا کہ 1265 دن گزرنے کے باوجود آج تک ایکشن پلان پر عمل نہیں کیا گیا۔ پردیش کانگریس کے ترجمان سید نظام الدین نے آج میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ 100 روزہ ایکشن پلان کے نام پر بڑے پیمانہ پر رقومات ہڑپ کی گئی ہے۔ انہوں نے حکومت سے ایکشن پلان پر عمل آوری کی تفصیلات کے ساتھ وائیٹ پیپر جاری کرنے کا مطالبہ کیا ۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ میں 2014 سے آج تک 4000 سے زائد کسانوں نے خودکشی کی لیکن حکومت نے صرف 1070 کسانوں کے خاندانوں کو امداد فراہم کی ہے۔ انہوں نے ضلع واری سطح پر خودکشی کرنے والے کسانوں کی تفصیلات پر مشتمل وائیٹ پیپر کی اجرائی کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ ٹی آر ایس حکومت نے حیدرآباد کی ترقی کو نظر انداز کردیا ہے اور عوام کو گمراہ کرنے کیلئے بلند بانگ دعوے کئے جارہے ہیں۔ گریٹر حیدرآباد میناریٹی ڈپارٹمنٹ کے صدر سمیر ولی اللہ کے ہمراہ سید نظام الدین نے 100 دن کے ایکشن پلان کی تفصیلات جاری کیں ۔ انہوں نے بتایا کہ 18 فروری 2016 ء کو اس وقت کے وزیر بلدی نظم و نسق کے ٹی راما راؤ نے شہر کی ہمہ جہتی ترقی کیلئے 100 دن کے ایکشن پلان کا اعلان کیا تھا ۔ ایکشن پلان کے تحت وارڈ اور ایریا سبھا کمیٹیوں کو متحرک کرنے کی تجویز تھی۔ 569 بی ٹی روڈس کی تعمیر، 10 قبرستانوں کی حصار بندی ، 50 بس اسٹانڈس کی تعمیر ، بارش سے قبل نالوں کی صفائی ، 100 پائلٹس کی تعمیر ، 40 ماڈل مارکٹس کا قیام ، 360 کھلی اراضیات کی باؤنڈری وال کی تعمیر ، 4 ماڈل سلاٹر ہاؤز کا قیام ، 150 جمنازیم، 329 اسپورٹس گراؤنڈس کی تعمیر اور اسکل ٹریننگ کے تحت 2000 سے زائد نوجوانوں کو ٹریننگ جیسے اعلانات کئے گئے تھے لیکن ایک بھی اعلان پر عمل نہیں کیا گیا ۔
انہوں نے بتایا کہ شہر میں تین بس اسٹاپ تعمیر کئے گئے اور ہر ایک پر پانچ لاکھ کا خرچ دکھایا گیا۔ جی ایچ ایم سی کے ویب سائیٹ پر بعض تفصیلات موجود تھیں ، جنہیں بعد میں نکال دیا گیا ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے کبھی بھی شہر کی مستقل ترقی کا منصوبہ تیار نہیں کیا ہے۔ عید ، تہوار اور مانسون کے موقع پر عارضی طور پر فنڈس جاری کئے جاتے ہیں اور یہ فنڈس کاموں کے بغیر عہدیدار ہضم کرلیتے ہیں۔ تمام عارضی منظوریاں کسی اسکام سے کم نہیں۔ نظام الدین نے کہا کہ معمولی بارش کے نتیجہ میں شہر کی سڑکیں تباہ ہوچکی ہیں۔ کمشنر جی ایچ ایم سی نے 4000 گڑھے ہونے کا اعتراف کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ناقص سڑکوں کے نتیجہ میں عوام کو دشواریوں کا سامنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن میں ٹی آر ایس کو 100 نشستیں عوام نے اس امید کے ساتھ فراہم کی تھی کہ حکومت شہر کی ترقی کیلئے کام کرے گی۔ لیکن حکومت اور اس کی حلیف جماعت دونوں کو ترقی سے کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ دوسری میعاد میں کامیابی کے بعد چیف منسٹر ڈکٹیٹرشپ انداز میں حکمرانی کر رہے ہیں۔ وہ اپوزیشن ارکان اسمبلی کو خرید کر اپوزیشن کو ختم کرنا چاہتے ہیں۔ تاکہ حکومت کی خامیوں پر سوال کرنے والا کوئی نہ رہے۔
