حیدرآباد ۔ 10 ۔ مارچ : ( سیاست نیوز) : رمضان المبارک اب موسم گرما کی سخت گرمی کے ساتھ گزر رہا ہے اور گرمی کی شدت میں بتدریج اضافہ ہورہا ہے ۔ ایسے میں شہر اور مضافات کی مارکٹس میں پتے والی ترکاریوں اور کئی قسم کے پھل کی بہتات دیکھی جارہی ہے ۔ بازاروں اور ویکلی مارکٹس میں تازہ پھلوں کی آمد ہوتی ہے اس لیے لوگ تازہ پھلوں کے حصول کیلئے ان مارکٹس کا رخ کرتے ہیں ۔ ان پھلوں میں پپئی کو ایک اہم اور تغذیہ بخش پھل سمجھا جاتا ہے ۔ پپئی کی کئی اقسام ان دنوں مارکٹس میں دستیاب ہیں ۔ اس میں وٹامنس اے ، سی ، ای اور فائبر ہوتا ہے ۔ پپئی کا ذائقہ مزیدار ہوتا ہے اور پپئی زیادہ تر شہر کے اطراف کے دیہاتوں سے شہر کی مارکٹس میں آتی ہے ۔ ’ زیادہ تر کسان پپئی اگانے کو پسند کرتے ہیں ۔ محض اس لیے نہیں کہ یہ کم توجہ کے ساتھ نفع بخش اور اس کی زیادہ پیداوار ہوتی ہے بلکہ یہ ایک موسمی فصل ہوتی ہے اور آسانی سے فروخت ہوتی ہے کیوں کہ مارکٹس میں ہر وقت اس کی مانگ ہوتی ہے ‘ ۔ یہ بات ایک سیزنڈ فارمر محمد ادیب احمد نے کہی جو کندکور منڈل میں اگرنجیا گوڑہ ولیج میں ان کی فارم لینڈ (کاشت کاری کی اراضی ) پر پپئی کی کاشت کرتے ہیں ۔ شہر کی مارکٹس میں بالخصوص رنگاریڈی ڈسٹرکٹ سے ہر دن آنے والی پپئی کی اقسام میں واپی فروٹ کو جسے نمبر 15 بھی کہا جاتا ہے نہایت محفوظ سمجھا جاتا ہے ۔۔ A