متعدد کمپنیوں کے ملازمین کا گھروں سے کام ، انٹرنیٹ کی رفتار میں اضافہ پر زور
حیدرآباد۔27مارچ(سیاست نیوز) شہر میں ٹریفک ختم ہوچکی ہے لیکن انٹرنیٹ کی ٹریفک میں بے تحاشہ اضافہ ہوچکا ہے۔ حکومت کی جانب سے کوروناوائرس کے سبب اعلان کردہ لاک ڈاؤن کے سبب جو صورتحال پیدا ہوئی ہے اس صورتحال میں شہر کی سڑکوں سے ٹریفک ختم ہوچکی ہے ا ور شہری اپنے گھروں میں بند ہیں لیکن انٹرنیٹ کی طلب میں اضافہ ہوگیا ہے اور کہا جار ہاہے کہ انفارمیشن ٹکنالوجی صنعت سے وابستہ افراد کے گھروں سے کام کرنے کے سبب انٹرنیٹ خدمات کو مزید بہتر اورتیز کرنے کی ضرورت پیش آرہی ہے ۔ ریاست تلنگانہ میں سیکریٹری محکمہ انفارمیشن ٹکنالوجی نے بتایا کہ شہر حیدرآباد کے علاوہ دیگر اضلاع میں لوگ گھروں میںرہنے کے سبب انٹرنیٹ کی طلب میں اضافہ ریکارڈ کیا جا رہاہے کیونکہ لوگ نیٹ فلیکس اوردیگر آن لائن پورٹل پر فلم دیکھنے کے علاوہ دیگر تفریحی پروگرامس کا مشاہدہ کر رہے ہیں جس کے سبب انٹرنیٹ کی طلب میں بے تحاشہ اضافہ ریکارڈ کیا جا رہاہے۔ انٹرنیٹ خدمات فراہم کرنے والی کمپنیوں کے ذمہ داروں کا کہناہے کہ ریاست تلنگانہ میں انٹرنیٹ خدمات کی طلب میں 5گنا اضافہ ریکارڈ کیا جا رہاہے۔ موبائیل فون خدمات فراہم کرنے والی کمپنیوں کا کہناہے کہ لاک ڈاؤن کے دوران موبائیل انٹرنیٹ خدمات کی رفتار کم ہوتی جا رہی ہے کیونکہ لاک ڈاؤن کے سبب لوگ یو ٹیوب اور دیگر ایسے ایپلیکیشن کا استعمال کررہے ہیں جو کہ زیادہ انٹرنیٹ خرچ کرتے ہیں۔ بتایاجاتا ہے کہ بیک وقت کروڑہا کی تعداد میں لوگوں کی جانب سے انٹرنیٹ کے استعمال کے سبب بھی رفتار میں گراوٹ ریکارڈ کی جا رہی ہے اور کمپنیوں کی جانب سے اس بات کی کوشش کی جا رہی ہے کہ انٹرنیٹ خدمات کو مزید تیز کیا جائے ۔ بتایاجاتاہے کہ اس کے لئے حکومت کی منظوری درکار ہوتی ہے اور کمپنیاںحکومت کی منظوری کے حصول کی کوشش کر رہی ہیںکیونکہ ملک بھر میںلاک ڈاؤن کی صورتحال کے سبب لوگ گھروں میں ہیں اور انٹرنیٹ کے استعمال میں اضافہ کے علاوہ ملک کی کئی کمپنیوں کی جانب سے گھروںسے خدمات انجام دینے کی اجازت فراہم کئے جانے کے بعد یہ ضروری ہوگیا ہے کہ عام شہریوں کو فراہم کئے جانے والے انٹرنیٹ کی رفتار میں بھی اضافہ کیا جائے کیونکہ ایسا نہ کرنے کے سبب گھروں سے کام کرنے والوں کو بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا اور جن کمپنیوں کی جانب سے گھروں سے کام کرنے کی اجازت فراہم کی گئی ہے وہ کمپنیاں بھی خسارہ کا شکار ہوسکتی ہیں۔ مسٹر جئیش رنجن سیکریٹری محکمہ انفارمیشن ٹکنالوجی نے بتایا کہ ریاستی حکومت کی جانب سے موبائیل اور انفارمیشن ٹکنالوجی کمپنیوں سے رابطہ کرتے ہوئے انہیں انٹرنیٹ کی رفتار میں اضافہ کی ہدایت دی جا رہی ہے۔
