شہر کے آر ٹی اے دفاتر میں آن لائن خدمات بے اثر

   

Ferty9 Clinic

رشوت کا بازار گرم، عملہ پر بدعنوانیوں میں ملوث ہونے کا الزام

حیدرآباد ۔ 18 اگست (سیاست نیوز) روڈ ٹرانسپورٹ اتھاریٹی (آر ٹی اے) کی خدمات میں شفافیت پیدا کرنے کے لئے کئے جارہے تمام اقدامات بے اثر ثابت ہو رہے ہیں۔ اصلاحات اور نئی پالیسیوں سے بدعنوانیوں پر روک لگانے کی لاکھ کوشش کو عملہ کسی بھی صورت اپنے مفاد میں آخر کار استعمال کرہی لیتا ہے۔ اس طرح کے الزامات سے ان دنوں آر ٹی اے کے مقامی دفاتر بدنام ہورہے ہیں۔ اسمارٹ سہولیات کی آڑ میں بڑی خوبصورتی سے لوٹ کھسوٹ جاری ہے۔ شہریوں کو اسمارٹ کارڈز کی اجرائی کے معاملہ میں ہاتھ بدلی کا سلسلہ زور و شور سے جاری ہے۔ اسپیڈ پوسٹ کے ذریعہ استفادہ کنندگان کے مکان پر راست پہنچائی جانے والی خدمات کا غلط استعمال کیا جارہا ہے۔ ڈرائیونگ لائسنس اور آر سی و دیگر اسمارٹ کارڈ جو اتھاریٹی کی جانب سے جاری کیا جاتا ہے اپنی خدمات کو عملہ کی جانب سے مبینہ طور پر ایجنٹس کے حوالے کردیا جارہا ہے۔ شہر کے چند آر ٹی اے دفاتر میں عملہ پر اس طرح کے الزامات پائے جاتے ہیں۔ اس کام کے لئے عملہ کی جانب سے چند افراد کو مقرر کردیا گیا ہے اور ان مقرر کردہ افراد کے ذریعہ ہی اسپیڈ پوسٹ کے بجائے راست طور پر شہریوں کو اسمارٹ کارڈس حوالے کئے جارہے ہیں۔ فی کارڈ 100 تا 150 روپے اور اگر شہری خوشحال اور دولت مند ہوتو اس سے زائد رقم لیتے ہوئے وی آئی پی انداز میں انہیں خدمات فراہم کی جارہی ہیں۔ اس طرح کے اقدامات سے آر ٹی اے کی ساکھ متاثر ہو رہی ہے۔ اس طرح کی مبینہ بدعنوانیوں پر روک لگانے کی خاطر ٹرانسپورٹ اتھاریٹی نے آن لائن خدمات کا آغاز کیا اور مختلف عوامی خدمات میں شفافیت پیدا کرنے کے اقدامات کو انجام دیا۔ ان اقدامات کے باوجود عملہ نے نیا طریقہ ایجاد کرلیا۔ ڈرائیونگ لائسنس اور گاڑیوں کے رجسٹریشن کے لئے عوام کو راست طور پر آر ٹی اے سے رجوع ہونا لازمی ہے۔ اس کی آڑ میں اسمارٹ کارڈس کی اجرائی اور ان کی فراہمی کے لئے لوٹ کھسوٹ کا نیا طریقہ اپنایا جارہا ہے۔ سابق میں ڈرائیونگ لائسنس اور آر سی کے علاوہ دیگر خدمات کے تحت جاری کئے جانے والے دستاویزات کو گاڑی مالکین کے حوالے کیا جاتا تھا۔ تاہم نقلی پتہ پر آر ٹی اے کی خدمات کو حاصل کرتے ہوئے گمراہ کرنے کی حرکتوں پر روک لگانے کے لئے راست پتہ پر اسمارٹ کارڈس جاری کرنے کے اقدامات کا آغاز کیا گیا۔ تاہم نقلی اور فرضی پتہ سے آر ٹی اے کو دھوکہ دینے والوں پر روک لگانا ضروری ہے۔ غیر سماجی عناصر کی جانب سے اہم دستاویزات کے حصول پر پابندی اور ایک شہری کی جانب سے مختلف پتہ پر ایک سے زائد گاڑیوں کے رجسٹریشن اور ڈرائیونگ لائسنس کے حصول کو بند کرنا اصل مقصد تھا جبکہ قدیم طریقہ کار سے گاڑیوں کی خرید و فروخت مالکین کے ناموں کی تبدیلی کے عمل میں ہی بدعنوانیاں ہوئیں۔ ان حالات کو دیکھتے ہوئے پتہ کی جانچ کو لازمی کردیا گیا۔ جس کے سبب ضروری دستاویزات راست طور پر حوالے کرنے کی بجائے دیئے گئے پتہ پر رجسٹری پوسٹ کئے جارہے ہیں۔ سرویس چارجس کے طور پر اسپیڈ پوسٹ کے لئے 35 روپے زائد وصول کئے جارہے ہیں۔ گریٹر حیدرآباد میں 10 مقامی آر ٹی اے دفاتر ہیں، جن کے ذریعہ عوامی خدمات فراہم کی جارہی ہیں۔ ہر دن کم از کم 2500 تا 3000 اسمارٹ کارڈس جاری کئے جاتے ہیں۔ حالانکہ چند دفاتر میں اسپیڈ پوسٹ پر سختی سے عمل آوری جاری ہے۔ تاہم چند دفاتر میں راست حوالگی عمل میں لائی جارہی ہے۔ عمل آوری میں نگرانی کے فقدان سے اس طرح کے نتائج برآمد ہو رہے ہیں۔ A