شہر کے ایک شمشان گھاٹ میں 8 نعشوں کی اجتماعی آخری رسومات

   

رات دیر گئے رسومات کی انجام دہی کا ویڈیو وائرل
حیدرآباد :۔ تلنگانہ میں کورونا کی دوسری لہر شدت اختیار کرنے کے ساتھ اموات کی تعداد میں بھی بے تحاشہ اضافہ ہوگیا ہے ۔ رات کے اندھیرے میں شمشان گھاٹ میں مشترکہ طور پر ایک ہی چتا پر 7 تا 8 نعشوں کی اجتماعی طور پر آخری رسومات انجام دی جارہی ہیں ۔ شہر حیدرآباد کے لوور ٹینک بینڈ کے شمشان گھاٹ میں مشترکہ طور پر جلائی گئی نعشوں کی ویڈیو سوشیل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہورہی ہے ۔ واضح رہے کہ پڑوسی ریاست کرناٹک کے چند شمشان گھاٹوں کے باہر ہاوز فل کے بورڈ آویزاں کردئیے گئے ہیں ۔ تلنگانہ میں بھی اموات کی شرح عروج پر پہونچ گئی ہے ۔ روزانہ کورونا کے ہزاروں نئے کیسیس درج ہورہے ہیں اور 50 سے زائد اموات کی سرکاری طور پر توثیق کی جارہی ہے ۔ باوثوق ذرائع سے پتہ چلا ہے کہ روزانہ ریاست میں 100 تا 130 اموات ہورہی ہیں جس کا زندہ ثبوت شمشان گھاٹ اور قبرستان ہے جو کبھی جھوٹ نہیں بولتے جہاں آخری رسومات اور تدفین کے لیے سینکڑوں نعشیں اور میتیں پہونچ رہی ہیں ۔ گریٹر حیدرآباد میں کیسوں کے ساتھ اموات کی شرح میں بھی اضافہ ہورہا ہے ۔ شمشان گھاٹوں میں ایک ہی چتا پر کئی نعشوں کو مشترکہ طور پر جلایا جارہا ہے ۔ مقامی عوام کے اعتراض پر رات کے اندھیرے میں آخری رسومات انجام دی جارہی ہے ۔ مقامی عوام کے اعتراضات کو دیکھتے ہوئے پولیس کی خدمات سے بھی استفادہ کیا جارہا ہے ۔ جی ایچ ایم سی کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ گریٹر حیدرآباد کے حدود میں ایک ہی ساتھ 5 تا 6 نعشوں کو مشترکہ طور پر نذر آتش کیا جارہا ہے ۔ لوور ٹینک بینڈ کے شمشان گھاٹ میں ایک ہی ساتھ 8 نعشوں کو جلانے کا ویڈیو سوشیل میڈیا میں وائرل ہوا ہے ۔ مقامی عوام نے بتایا کہ رات 10 بجے کے بعد شمشان گھاٹوں کے پاس 108 ایمبولنس کے ذریعہ نعشیں لائی جارہی ہیں ۔ یہ بھی اطلاع مل رہی ہے کہ لکڑیاں دستیاب نہ ہونے پر پٹرول ڈال کر نعشوں کو جلایا جارہا ہے ۔ اس کے علاوہ شہر کے دوسرے شمشان گھاٹوں ای ایس آئی ، بنسی لعل پیٹ ، کواڑی گورہ ، عنبر پیٹ ، جل پلی وغیرہ میں کورونا سے مرنے والوں کی بڑی تعداد میں آخری رسومات انجام دی جارہی ہیں ۔۔