شہر کے بیشتر علاقوں میں ’ بہتے ڈرینج ‘ کا مسئلہ سنگین ‘ عوام بے بس

   

راجندر نگر ‘ ٹولی چوکی اور مانصاحب ٹینک کے علاقے زیادہ متاثر۔ بلدیہ کی کارکردگی غیر اطمینان بخش

حیدرآباد 28 اگسٹ ( سیاست نیوز ) شہر کے کئی علاقوں میں رہائشی بستیوں اور محلوں میں بہتی ہوئی ڈرینیج ایک قدیم مسئلہ ہے ۔ مانسون کی آمد کے ساتھ ہی ان علاقوں میںصورتحال مزید ابتر ہوجاتی ہے کیونکہ شہر میں سیوریج کا انفرا اسٹرکچر انتہائی ناکارہ ہے ۔ مین ہولس اور نالوں وغیرہ سے نکالا جانے والا کچرا اور گندگی نہ صرف ناک کیلئے بلکہ تمام حواس خمسہ کیلئے تکلیف کا باعث ہوتے ہیں۔ عام شہریوں نے اس تاثر کا اظہار کیا ہے ۔ گذشتہ سال شدید بارش اور سیلاب کی وجہ سے جو تباہی ہوئی ہے اس کو کم سے کم کیا جاسکتا تھا اگر ہمارے پاس ڈرینیج نظام موثر اور بہتر ہوتا ۔ جب اس سلسلہ میں کچھ شہریوں سے بات چیت کی گئی جنہوں نے پہلے اس مسئلہ کو حل کرنے کی اہمیت پر تشویش ظاہر کی تھی ۔ ان کا کہنا ہے کہ سال رواں کے اس حصے میں یہ مسئلہ اور بھی سنگین ہوجاتا ہے ۔ راجندر نگر کے ایک شہری اور کالج طالب علم حذیفہ کا کہنا تھا کہ ان کے گھر سے ڈرینیج 100 میٹر کی دوری پر ہے اور اس کی وجہ سے سارا محلہ متاثر ہے ۔ کچھ لوگوں نے اپنے مکانات سے اس مسئلہ کی وجہ سے تخلیہ بھی کردیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ جی ایچ ایم سی عہدیدار سینکڑوں شکایات کے بعد یہاں آتے ہیں لیکن وہ کچھ بھی کئے بغیر چلتے بنتے ہیں۔ ان مقامات پر سفر کرنا مشکل ہوگیا ہے اور مچھروں نے زندگی کو اور بھی مشکل بنادیا ہے ۔ اسی علاقہ کے ایک اور شہری حماد نے یہ بات بتائی ۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ایک ایسے دور میں جبکہ افراط زر بڑھ رہا ہے اور معاشی بحران ہے متوسط طبقہ کی بچت کا بڑا حصہ مچھروں سے نمٹنے اور ادویات پر خرچ ہو رہا ہے ۔ ان شہریوں نے اس سے قبل مئیر حیدرآباد گدوال وجئے لکشمی کو ٹوئیٹ بھی کیا تھا کہ وہ اس جانب توجہ کریں۔ مانصاحب ٹینک علاقہ میں ایک شہری عدنان حسین نے بتایا کہ چھ ماہ قبل علاقہ کے عوام نے بلدیہ سے شکایت کی تھی ۔ عملہ آیا اور کچھ کام کرکے چلا گیا ۔ تاہم اب صورتحال پھر جیسی کی ویسی ہوگئی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ مانسون کے دوران بارش کے پانی سے ساری سڑک متاثر ہوتی ہے ۔ یہاں ڈرینیج کا پانی بھی بہتا ہے اور ایسے میں شہریوں کیلئے اپنے گھر سے باہر نکلنا مشکل ہوجاتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ لوگ اب مایوس ہوچکے ہیں اور انہوں نے شکایت کرنا بھی چھوڑ دیا ہے ۔ ٹولی چوکی کا سارا علاقہ مچھروں کی بہتات کی وجہ سے مشہور ہوگیا ہے اور یاہں بھی ڈرینیج کا مسئلہ اس کی وجہ ہے ۔ ٹولی چوکی کے ایک شہری نے نام ظاہر نہ کرنے کی خواہش کے ساتھ بتایا کہ کورونا کی وجہ سے پہلے ہی کئی مسائل ہیں اور اب ڈینگو اور ملیریا کی پریشانی لاحق ہوگئی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ مچھروں نے ٹولی چوکی میں رہنا مشکل کردیا ہے ۔ کوئی شہری یہاںچین سے ٹہر تک نہیںسکتا ۔ تاہم راجندر نگر ‘ ٹولی چوکی اور مانصاحب ٹینک کی بہ نسبت ملک پیٹ میں صورتحال قدرے بہتر ہے ۔ ایک مقامی فرد نے بتایا کہ علاقہ میںڈرینیج سے متعلق کئی مسائل ہوا کرتے تھے لیکن اب بلدیہ اچھا کام کر رہی ہے ۔