شہر کے سڑکوں کا تعمیری معیار انتہائی ناقص

   

ذرا سی بارش ، اصلیت منظر عام پر ، سالانہ اوسطاً 500 کروڑ روپئے کے اخراجات
حیدرآباد ۔ 8 ۔ ستمبر : ( سیاست نیوز ) : گریٹر حیدرآباد میں چند دنوں سے ہونے والی بارش سے سڑکوں کے معیار کی اصلیت منظر عام پر آگئی ہے ۔ شہر میں سڑکوں کی تعمیرات اور اس کی نگرانی کے لیے گذشتہ 5 سال سے سالانہ اوسطاً 500 کروڑ روپئے خرچ کئے جارہے ہیں ۔ سی آر ایم پی پلان کے تحت 5 ماہ کے دوران 150 کروڑ روپئے خرچ کئے گئے ۔ مزید 600 کروڑ روپئے کے کاموں سے متعلق بلز زیر التوا ہیں ۔ گریٹر حیدرآباد کے حدود میں 9013 کیلو میٹر سڑکیں ہیں جس میں 2846 کیلومیٹر اہم سڑکوں پر بی ٹی روڈس ہیں 6 ہزار کیلو میٹر سے زائد سی سی روڈس ہیں ۔ جن میں اکثریت انٹر لنک سڑکیں ہیں ۔ مرمتی کاموں کے لیے سالانہ 200 کروڑ روپئے جو خرچ کئے جارہے ہیں ان میں 90 فیصد بی ٹی روڈس ہیں ۔ شہر حیدرآباد میں 28 فیصد سڑکیں ہیں ۔ ان کی نگہداشت کے لیے کروڑہا روپئے خرچ کئے جارہے ہیں ۔ باوجود اس کے سڑکوں کی ابتر صورتحال ہے ۔ ذرا سی بارش سے بھی سڑکوں پر گڑھے پڑ رہے ہیں ۔ سڑکوں کی دیکھ بھال اور نگرانی کے لیے جی ایچ ایم سی کے اخراجات میں اضافہ ہوا ہے ۔ مگر سڑکوں کی تعمیری معیار پر کوئی توجہ نہیں دی جارہی ہے ۔ جس سے ذرا سی بارش سے سڑکیں ناکارہ ہورہی ہیں ۔ سڑکوں کی تعمیر و مرمت کے لیے کروڑہا روپئے خرچ کئے جارہے ہیں ۔ عصری ٹکنالوجی کا بھر پور استعمال کیا جارہا ہے ۔ مگر تھوڑی سی بارش پر سڑکوں کی اصلیت منظر عام پر آرہی ہے ۔ جی ایچ ایم سی کی جانب سے شہر کے 709 کیلو میٹر اہم سڑکوں کو 5 سال کے لیے خانگی شعبوں کے حوالے کیا گیا ہے ۔ اس پر 1839 کروڑ روپئے خرچ کئے جارہے ہیں ۔ تاحال 450 کیلو میٹر تک سڑکیں تعمیر ہوئی ہیں اور 450 کروڑ روپئے خرچ ہوئے ہیں ۔ سال 2018-19 سے سڑکوں پر کئے جانے والے اخراجات میں اضافہ ہورہا ہے ۔ قبل ازیں 250 تا 300 کروڑ روپئے کے مصارف تھے ۔ N

گذشتہ 4 سال سے اخراجات 550 تا 800 کروڑ تک پہونچ چکے ہیں ۔ عہدیداروں نے بتایا کہ سی آر ایم پی پلان کے توقع کے مطابق مثبت نتائج برآمد نہیں ہورہے ہیں ۔۔N