عوامی شکایات کی عدم سنوائی ۔ درخواستوں کا جائزہ لیا جا رہا ہے ۔ بلدیہ کا دعوی
حیدرآباد۔ سیلاب متاثرین کو امداد کی فراہمی پر حکومت اور مجلس بلدیہ حیدرآباد دونوں کوئی جواب دینے کے موقف میں نہیں ہیں اور نہ ہی بلدیہ کی جانب سے رقمی امداد موصول نہ ہونے کی شکایات کی سنوائی کی جا رہی ہے ۔ دونوں شہروں میں سیلاب متاثرین کو جی ایچ ایم سی کی جانب سے 10ہزار کی نقد رقمی امداد بینک کھاتوں میں منتقل کرنے وصول کئے گئے دستاویزات کی بنیاد پر انہیں موبائیل پر ایس ایم ایس موصول ہورہے ہیں لیکن ان کے بینک کھاتوں میں رقومات جمع نہیں کی جا رہی ہیں ان شکایات کے علاوہ اب بھی کئی علاقو ںمیں متاثرین کو نقد رقم کی عدم اجرائی کی شکایات موصول ہورہی ہیں لیکن جی ایچ ایم سی حکام کی جانب سے کہا جار ہاہے کہ جو درخواستیں موصول ہوئی ہیں ان کی تنقیح کی جا رہی ہے اور جائزہ لیا جا رہا ہے کہ ان علاقوں میں پانی جمع ہوا تھا یا نہیں ! حافظ بابانگر کے علاوہ الجبیل کالونی کے کئی متاثرین کو اب بھی امداد موصول نہ ہونے کی شکایات کی جا رہی ہیں جبکہ مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کے عہدیداروں نے بتایا کہ جن مکانات میں پانی داخل ہوا تھا ان تمام مکانات میں رہنے والے مکینوں کو نقد رقمی امداد جاری کردی گئی ہے اور جن مکانات کو جزوی نقصان پہنچا ہے ان کے نقصانات کا جائزہ لیا جا رہاہے ۔بلدی عہدیداروں نے بتایا کہ سیلاب کے دوران جو مکانات منہدم ہوئے ہیں ان مکانات کے مالکین کو حکومت کی جانب سے فوری ایکس گریشیاء کی ادائیگی اور سیلاب میں فوت ہونے والوں کے لواحقین کو ایکس گریشیاء کی اجرائی کے اقدامات کئے جاچکے ہیں اور جن مکانات کو جزوی نقصانات ہوئے ہیں ان کے نقصانات کا جائزہ لیا جا رہاہے اور اس بات کی کوشش کی جا رہی ہے کہ جلد از جلد اس سروے کو مکمل کرکے جزوی نقصانات سے دوچار ہونے والے مکان مالکین کو حکومت کے اعلان کے مطابق منظورہ رقم کی اجرائی عمل میں لائی جائے ۔ 10ہزار کی نقد رقمی امداد کے سلسلہ میں عہدیداروں نے دعویٰ کیا کہ جتنی درخواستیں وصول ہوئی تھیں ان تمام کی یکسوئی کر دی گئی ہے اور جن درخواستوں کی یکسوئی نہیں ہوپائی ہے ان درخواست گذاروں کے مکانات کا سروے کیا جانا باقی ہے اور فیلڈ سروے کے بعد ہی انہیں رقومات کی اجرائی عمل میںلائی جائے گی۔