شہر کے متعدد افراد آبائی وطن روانہ ، شہر کے کئی علاقے خالی

   

مکانات اور تجارتی مراکز پر کرایہ کے لیے دستیاب کے بورڈس آویزاں
حیدرآباد : شہر خالی ہونے لگا ہے ، لوگ اپنے آبائی مقامات کو لوٹنے لگے ہیں اور مکانات کے علاوہ تجارتی مراکز پر کرایہ کے لیے جگہ دستیاب ہیں کہ بورڈ آویزاں کیے جانے لگے ہیں ۔ ماہ جون کے اواخر میں شہر کے بیشتر تمام علاقوں میں بیرون شہر و ریاست کے خاندانوں نے اپنے مکانات و تجارتی اداروں کا تخلیہ شروع کردیا ہے اور وہ موجودہ حالات میں ایک اور ماہ کا کرایہ ادا کرنے کے موقف میں نہیں ہیں اسی لیے مکان اور تجارتی اداروں کا تخلیہ کرتے ہوئے اپنے آبائی مقامات کو واپس ہونے لگے ہیں ۔ دونوں شہروں حیدرآباد و سکندرآباد کے کئی علاقوں میں ملک کی مختلف ریاستوں سے تعلق رکھنے والے افراد نے روزگار ، ملازمت اور تجارت کے سبب سکونت اختیار کرلی تھی لیکن اب کورونا وائرس کی وباء کے بعد پیدا شدہ حالات کو دیکھتے ہوئے وہ واپس ہونے لگے ہیں ۔ گذشتہ ماہ مئی کے دوران مزدور طبقہ کا نہ ہونے اور حالات کی سنگین نوعیت کو دیکھتے ہوئے اپنے اپنے آبائی مقامات کو لوٹ رہا تھا لیکن ماہ جون کے دوران ملازمتوں کے چلے جانے اور روزگار کے مواقع ٹھپ ہونے کے سبب کرایہ کے مکانات میں زندگی گذارتے ہوئے تجارت اور ملازمت کررہے لوگوں نے بھی شہر سے تخلیہ شروع کردیا ہے ۔ شہر میں کیے گئے ایک سروے کے مطابق دونوں شہروں میں گذشتہ 4 ماہ کے دوران 30 فیصد سے زائد مکان خالی کیے جاچکے ہیں جن میں ماہ جون کے دوران خالی کیے جانے والے مکانوں کا فیصد 12 ریکارڈ کیا جارہا ہے ۔ مالکین جائیداد اپنی جائیدادوں کو دوبارہ کرایہ پر دینے کے لیے باب الداخلہ پر کرایہ پر مکان دستیاب ہے کہ بورڈ آویزاں کرنے لگے ہیں جو کہ ان کی معاشی پریشانیوں کا عکاس ہے ۔۔