شہر کے مضافاتی علاقوں میں جھیلوں کی ابتر حالت پر گرین ٹریبیونل کی برہمی

   

چیف سکریٹری اور پولیوشن کنٹرول بورڈ کو نوٹس
حکومت کی رپورٹ پرعدم اطمینان کا اظہار
حیدرآباد۔نیشنل گرین ٹریبیونل نے حیدرآباد میٹرو پولیٹن ڈیولپمنٹ اتھاریٹی اور تلنگانہ اسٹیٹ پولیوشن کنٹرول بورڈ کو ہدایت دی ہے کہ شہر کے نواحی علاقوں میں واقع 18 جھیلوں بشمول امین پور جھیل کا تحفظ کیا جائے۔ گرین ٹریبیونل کے جنوبی ہند بنچ نے تالابوں اور جھیلوں کے اطراف غیر مجاز قبضوں کو روکنے اور آلودگی سے بچانے کیلئے اقدامات کی ہدایت دی۔ ٹریبیونل نے ایچ ایم ڈی اے اور اریگیشن ڈپارٹمنٹ پر برہمی کا اظہار کیا کہ دونوں نے امین پور جھیل کے بارے میں آزادانہ رپورٹس پیش نہیں کی ہے۔ چیف سکریٹری اور پولیوشن کنٹرول بورڈ کو ہدایت دی گئی کہ ٹریبیونل کے احکامات پر عمل آوری کو یقینی بنائے۔ ٹریبیونل نے کہا کہ کئی جھیلیں خشک ہوچکی ہیں کیونکہ آبگیر علاقوں میں غیر مجاز قبضوں کے ذریعہ پانی کے راستہ کو بند کردیا گیا ہے۔ مختلف محکمہ جات جھیلوں کے تحفظ اور ان کے مینٹننس میں ناکام ہوچکے ہیں۔ پولیوشن کنٹرول بورڈ نے ٹریبیونل میں پیش کردہ رپورٹ میں کہا کہ 19 واٹر باڈیز بشمول امین پور، پیدا چیروو کا معائنہ کیا گیا تاکہ پانی کے معیار کی جانچ جاسکے۔ اس کے علاوہ پانی میں آلودگی میں اضافہ کا سبب بننے والے ذرائع کی جانچ کی گئی۔ ٹریبیونل نے کہا کہ رپورٹ کے ساتھ جو تصاویر پیش کی گئی ہیں وہ جھیلوں کی ابتر صورتحال کی عکاسی کرتی ہیں۔ تصاویر سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ کس طرح مینٹننس کو نظرانداز کردیا گیا۔19 جھیلوں میں 7 خشک ہوچکی ہیں جن میں پانی موجود نہیں۔ امین پور جھیل کے متعلق پولیوشن کنٹرول بورڈ نے بتایا کہ اس کے پانی کی کوالٹی ڈی درجہ کی ہے۔